انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 233

انوار العلوم جلد و ۲۳۳ منهاج الطالبين جو بدیوں کا علم ہو کر بھی انہیں یہ باتیں ان لوگوں کے متعلق ہیں جن کے دلوں ۔ پر بدیوں کی وجہ سے زنگ نہ لگ چکا ہو۔ مگر نہیں چھوڑ سکتے ، اُن کا علاج بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بدیوں کا علم ہوتا ہے مگر باوجود اس کے وہ انہیں چھوڑ نہیں سکتے۔ ان کا کیا علاج ہے؟ مثلاً ایسے لوگ ہیں جنہیں پتہ ہے کہ نماز نہ پڑھنا گناہ ہے مگر نہیں پڑھتے ، جانتے ہیں کہ قتل کرنا گناہ ہے مگر چھوڑ نہیں سکتے۔ اس سوال کا ایک تفصیلی جواب ہے مگر نہ وہ اس وقت لیکچر میں بیان ہو سکتا ہے اور نہ کسی چھوٹی موٹی کتاب میں لکھا جا سکتا ہے۔ پس میں دس پندرہ سکتے اس سوال کے جواب میں اختصار کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں۔ (1) ایسے انسان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور کوئی روک پیدا ہو گئی ہے جو اُسے نیکی نہیں کرنے دیتی اور بدی سے بچنے نہیں دیتی اور یہ شامت اعمال ہے یعنی پچھلے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے لئے پہلا علاج یہ ہے کہ استغفار کر کے خدا تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگے۔ استغفار کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے معنے پردہ ڈالنے کے ہیں اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک حالت میں تو استغفار یہ ہوتا ہے کہ استغفار کرنے والا کہتا ہے کہ خدایا ! ان گناہوں کو جو میں کر چکا ہوں مٹا دے یا جن میں گرفتار ہوں ان کو دور کر دے اور دوسرا درجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کہتا ہے، الہی ! مجھ میں گناہ پیدا ہی نہ ہو۔ جب انبیاء کے متعلق استغفار آتا ہے تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ گناہ کبھی پیدا ہی نہ ہو۔ (۲) دوسرا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے اندر معرفت پیدا کرے۔ معرفت کے یہ معنے ہیں کہ صفات الہیہ کو اپنے دل پر جاری کر کے صفات الہیہ کا مطالعہ کرے اور ان کو جذب کرنے کی کوشش کرے۔ مثلاً خدا تعالیٰ کی رحمانیت کو دیکھے کہ اُس نے مجھ پر کتنے احسان کئے ہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ میرے بندوں کو اپنے مال سے دو تو میں کیوں نہ دوں۔ اس طرح خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے بدیوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کا ملکہ پیدا ہو گا۔ (۳) نیکی کے نیک انجام اور بدی کے بد انجام پر غور کرے۔ یعنی یہ دیکھے کہ فلاں نے نیکی کی تو اُسے یہ فائدہ پہنچا اور فلاں نے بدی کی تو اُسے یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سے بھی عرفان حاصل