انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 232

۲۳۲ ہو جائے۔اَب مَیں تیسرے سوال کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ کسِ طرح معلوم ہو کہ کونسی بدیاں انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔یہ معلوم کرنے کے کئی ذرائع ہیں: (۱) محاسبۂ نفس ہے۔جب انسان کو معلوم ہو جائے کہ یہ بدیاں ہیں۔یہ نیکیاں ہیں۔تو پھر وہ غور کرے کہ ان میں سے کونسی بدی ہے، جو اس میں پائی جاتی ہے یا کونسی نیکی ہے جو نہیں پائی جاتی۔(۲) اپنے کسی گہرے اور دلی دوست سے کہے کہ وہ اس کے نفس کا مطالعہ کرے۔کیونکہ کبھی انسان اپنا عیب آپ معلوم نہیں کر سکتا اسلئے دوست سے کہے کہ وہ اسکے اعمال ظاہری کا مطالعہ کرے۔یہ نہ کہے کہ تم میرے متعلق بدی کے لئے تجسس اور تلاش کرو۔یہ گناہ ہے بلکہ کہے کہ جو ظاہر اعمال ہیں اُن میں جو نقص ہو وہ بتائو اِس طرح جو نقص وہ آپ معلوم نہ کر سکتا تھا اُسے دوست بتا دیگا مگر پھر بھی دوست دوست ہی ہوتا ہے کئی عیب وہ بھی چھوڑ دیگا اسلئے تیسرا طریق یہ اختیار کرنا چاہئے کہ جو عیب اُسے دوسروں میں نظر آتے ہوں اُنکے متعلق دیکھے کہ وہ مجھ میں تو نہیں پائے جاتے! مَیں بھی تو انہی افعال کو نہیں کرتا یا یہ کہ دوسروں میں جو نیکیاں نظر آئیں اُنکے متعلق دیکھے کہ مجھ میں ہیں یا نہیں۔(۴) اس سے بھی بڑھکر ایک اور بات ہے اور وہ یہ دیکھے دشمن اُسپر کیا عیب لگا رہے ہیں؟ اور پھر سوچے کہ وہ عیب اس میں پائے جاتے ہیں یا نہیں۔کئی عیب اس طرح معلوم ہو جائیں گے۔اسی طرح یہ بھی دیکھے کہ دشمنوں کو مجھ میںکونسی نیکیاں نظر آتی ہیں۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیکیوں کا اعتراف کرنے کے لئے دشمن بھی مجبور ہو جاتا ہے۔(۵) بہت اہم اور بہترین ذریعہ بدیوں اور نیکیوں کے معلوم کرنے کا یہ ہے کہ تلاوت قرآن کریم کرتے وقت جہاں وہ عیب پڑھے جو خدا تعالیٰ نے پہلے قوموں کے بیان کئے ہیں وہاں غور کرے کہ مجھ میں بھی تو یہ عیب نہیں۔اسی طرح جہاں قرآن کریم میں کسی نیکی کا ذکر آئے وہاں دیکھے کہ مجھ میں یہ نیکی پائی جاتی ہے یا نہیں۔اِسکا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ چونکہ سب نیکیاں اور بدیاں ایک وقت میں انسان کے سامنے نہیں آسکتیں اسلئے آہستہ آہستہ تلاوت کے وقت آتی رہیں گی۔دوسرے تلاوت کے وقت چونکہ خشیۃ اللہ پیدا ہوتی ہے اسلئے بدیوں سے بچنے اور نیکیاں اختیار کرنے میں بھی اُسے بہت مدد ملے گی۔