انوارالعلوم (جلد 9) — Page 227
انوار العلوم جلد و ۲۲۷ نهان الطالبین (۱۲) تجارت میں فریب کرنا بھی قومی بدی ہے۔ حدیث میں آتا ہے رسول کریم الله وعظ فرما رہے تھے کہ یکے بعد دیگرے لوگوں نے سوال کرنے شروع کر دیئے۔ اس پر آپ کو جوش آگیا اور آپ نے فرمایا: کرو جس قدر سوال کرنا چاہتے ہو۔ ۲۳ میں وعظ چھوڑتا ہوں۔ اب پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو میں قیامت تک کی باتیں بتاتا ہوں۔ اسی طرح اس وقت میں کہتا ہوں۔ سوال پر سوال آ رہے ہیں۔ کیا میں لیکچر چھوڑ کر سوالوں کے جواب دینا شروع کر دوں۔ جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کے نوٹوں کے ابھی تک صرف پینتیس صفحے بیان کر سکا ہوں اور پچیس باقی ہیں۔ اگر میں نے سوالوں کے جواب دینے شروع کر دیئے تو مضمون کس طرح ختم ہو گا۔ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ تجارت میں فریب کرنا بھی قومی بدی ہے۔ کیونکہ اس سے قوم کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔ میں جب کشمیر گیا تو میں نے تحقیقات کی کہ چاندی کے برتنوں اور شال وغیرہ کی تجارت جو ایک کروڑ کی تھی لوگوں کی بد دیانتی کی وجہ سے اب صرف سترہ لاکھ کی رہ گئی ہے۔ (۱۳) کارکنوں پر بے تعلق آدمیوں کے سامنے نکتہ چینی کرنا۔ (۱۴) بغیر کسی کا نام لئے قوم کی عام بدی کا اعلان کرنا۔ مثلاً یہ کہنا ہم میں بڑے، فریب کرنے والے لوگ ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم ایسی ہی ہو جاتی ہے۔ (۱۵) قومی اغراض میں مدد دینے سے دریغ کرنا۔ (۱۶) جن لوگوں سے قوم کو نقصان پہنچے اُن سے دوستی اور تعلق رکھنا۔ (۱۷) حکومت یا جماعت کے کارکنوں سے تعاون نہ کرنا۔ (۱۸) اطاعت کی کمی۔ اب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔ (1) بلا وجہ قسم کھانا۔ مجسٹریٹ کے سامنے قسم کھانی پڑے یا کوئی اور ایسا اہم معاملہ ہو جس کے متعلق قسم کھانا ضروری ہو تو قسم کھا سکتا ہے ورنہ یونہی قسم کھانا گویا خدا تعالی کے نام کی تخفیف کرتا ہے۔ (۳) مایوسی کہ اب میری مشکلات دور نہیں ہو سکتیں۔ یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ (۳) دل میں گندگی جمع کرنا خدا تعالیٰ نے اس لئے دل پیدا کیا ہے کہ اُسے اپنا گھر بنائے