انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxvi

۱۸ مل کر کام کرو۔ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آؤ۔ ہر بھائی کے ساتھ محبت کا سلوک کرو۔ جھگڑوں کو چھوڑ دو اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے کام آؤ۔" جلسہ سالانہ کے تیسرے دن ۲۸ دسمبر ۱۹۲۶ء کو حضور نے جو تقریر فرمائی اس میں بھی اصل مضمون سے پہلے آپ نے بعض متفرق امور کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی۔ آپ نے جلسہ سالانہ پر آنے والے دوستوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ پوری دلجمعی اور انہماک سے تقاریر سنا کریں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اِدھر اُدھر پھر کر وقت ضائع نہ کریں۔ اگر کسی وقت ضروری حاجت کیلئے باہر جانا پڑے تو فارغ ہوتے ہی جلسہ گاہ میں واپس آ جانا چاہئے۔ اس کے بعد حضور نے اسی سال شائع ہونے والی اپنی دو کتب " منہاج الطالبین " اور " حق الیقین " کا تعارف کروایا کہ یہ نہایت اہم مضامین پر مشتمل ہیں اور بہت مفید علمی معلومات کا ذخیرہ اپنے رکھتی ہیں۔ احباب کو چاہئے کہ وہ انہیں خرید کر خود بھی مطالعہ کریں اور کثرت سے شائع کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ حضور نے بعض احمدی مصنفین کی کتب کا بھی تعارف کروایا اور انہیں خریدنے کی تلقین فرمائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے احباب جماعت کو وصیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جو شخص وصیت نہیں کرتا اس کے ایمان میں نفاق کا حصہ ہے اس لئے دوستوں کو وصیت کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے تاکہ جماعت کے بڑھتے ہوئے کاموں کیلئے روپیہ مہیا ہو سکے۔ حضور نے فرمایا کہ جماعت کے سب افراد کو کام کرنا چاہئے اور کوئی دوست بے روز گار نہیں رہنا چاہئے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر انتظام ضیافت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ قادیان کی آبادی محدود ہے اس لئے مهمانوازی کے سلسلہ میں باہر سے آنے والے دوستوں کو بھی شامل کر لینا چاہئے تاکہ سب مہمانوں کو وقت پر کھانا مہیا کیا جا سکے اور وہ بروقت جلسہ کی کارروائی میں شامل ہو سکیں۔ آخر میں حضور نے مسجد لندن کے افتتاح کے سلسلہ میں ایک تازہ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔ آج مسجد لندن کے متعلق ایک اور شہادت ملی ہے کہ ولایت کے ایک بڑے آدمی نے لکھا ہے کہ ابن سعود نے ایک نادر موقع ہاتھ سے کھو دیا اس کے لئے موقع تھا کہ وہ یہ رکھا تا کہ اس کا تعلق اس جماعت سے ہے جو اسلام کو خوبصورتی کے ساتھ