انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 221

انوار العلوم جلد 8 ۲۲۱ منهاج الطالبين (۳۰) حد سے زیادہ غم کرنا بھی بدی ہے۔ یعنی انسان غم کو اتنا بڑھائے کہ اس کی عملی طاقتوں کو مضمحل کر دے۔ (۳۱) حد سے زیادہ خوشی بھی بدی ہے۔ (۳۲) بے تعلق باتوں میں دخل دینا۔ ایسی باتیں جن سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو خواہ مخواہ کو د پڑنا بھی بدی ہے۔ (۳۳) ہلکا پن۔ جس سے مراد زیادہ باتیں کرنا ہے۔ جب کسی انسان کو زیادہ باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے تو وہ بے سوچے سمجھے جواب دیتا ہے۔ (۳۴) سنگ دلی یعنی رحم نہ ہونا بھی ایک بدی ہے۔ (۳۵) دوسروں کو ایذاء رسانی میں لذت محسوس کرنا۔ یذاء رسانی میں (۳۶) اسراف (۳۷) خود کشی (۲۸) وہ جھوٹ جس میں کسی کا نقصان نہ ہو۔ کئی لوگ بے فائدہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آپ میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ دو قسم کی ہیں۔ اول وہ بریاں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ دوم وہ بدیاں جو انسانوں کے سوا دوسری مخلوق سے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک دوست پوچھتے ہیں۔ حقہ چھوڑنے کی ترکیب بتاؤ۔ حقہ کی نسبت افیون چھوڑنے میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ایک دوست تھے جنہوں نے بہت سال افیون کھائی۔ جب وہ چھوڑنے لگے تو ڈاکٹر نے کہا۔ اگر چھوڑ دو گے تو مر جاؤ گے۔ مگر انہوں نے چھوڑ دی۔ اس پر چند دن انہیں تکلیف رہی مگر پھر ان کی صحت اچھی ہو گئی۔ نشے چھوڑنے کے کچھ علاج تو آگے بتاؤں گا۔ لیکن اس وقت مضمون کو خراب کئے بغیر جو بتا سکتا ہوں وہ یہی ہے کہ چھوڑ دو۔ ہو وہ بدیاں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ یہ ہیں:۔ (1) بے ادبی جن کا ادب کرنا ضروری ان کا ادب نہ کرنا بھی بدی ہے (۲) ناجائز اظہار محبت (۳) بے وفائی یعنی آپ تو کام کراتے رہے لیکن جب دوست کو مدد کی ضرورت ہوئی تو جواب دے دیا (۴) چھچھورا پن اس کی تعریف یہ ہے کہ جلد غصہ میں آجانا۔ ناشائستہ اشارے کرنا۔ فوراً سزا دینے پر آمادہ ہو جانا۔ یونہی سزا دینے کی دھمکیاں دینا۔ میں نے کئی دفعہ قادیان کے دو بنیوں کا قصہ سنایا ہے۔ ایک دوسرے کو گالی دے رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا کہ اب گالی دو تو تمہارا سر پھوڑ دوں گا۔ اگر اُسے سر پھوڑنا تھا تو پہلی دفعہ گالی