انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 218

انوار العلوم جلد 9 ۲۱۸ منهاج الطالبين روکتی ہے (۲) سفلہ پن۔ بازاروں میں آوارہ طور پر پھرنا یا بیٹھنا اور ذلیل پیشے اختیار کرنا۔ یہ بھی نفس کی بدی ہے اور اس کی وجہ سے بھی اعلیٰ ترقی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کوئی اپنی حالت اور ! پیشہ نہ بدلے گا۔ (۳) جلد بازی، کسی کام کو بے سوچے سمجھے جلدی میں اختیار کر لینا۔ اس کا نقصان بھی اختیار کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے۔ (۴) بدظنی یعنی دوسرے کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ ایسا ہے ویسا ہے خواہ اس پر اس خیال کو کبھی ظاہر نہ کرے حتی کہ مر جائے مگر پھر بھی یہ گناہ ہے۔ مگر (۵) ناجائز محبت، خواہ دل میں ہی رکھے اور کسی کو نہ بتائے تو بھی یہ بدی ہے۔ (1) کینہ، یعنی دل میں یہ خیال رکھنا کہ فلاں کو نقصان پہنچاؤں گا۔ چاہے عملاً کبھی بھی نقصان نہ پہنچائے۔ جائے۔ (۷) بزدلی بزدلی کاول میں پیدا ہونا گناہ ہے خواہ اُسکے اظہار کا کبھی موقع آئے یا نہ آئے۔ (۸) حسد یعنی دوسرے کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اس کی چیز جاتی رہے اور مجھے مل (۹) بے صبری یعنی مصائب پر گھبرا جائے اور جو کام اسے کرنا ہو وہ نہ کر سکے۔ (۱۰) دوں ہمتی، انسان اپنے لئے بڑے مقصد قرار نہ دے بلکہ چھوٹے چھوٹے قرار دے۔ یہ ۱۰) دوں ہمتی، انسان اپنے لئے بڑے تھے بڑائی بھی بڑی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔ یہ خصوصاً بادشاہوں اور امراء کے لئے سخت تباہی کا باعث کی بھی ہدی جانی کا موجب ہوتی ہے۔ یہ خصوصا بادشا ہے۔ کیونکہ اُن کی کم ہمتی سے ان کی رعایا بھی کم ہمت ہو جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة کی بھی ان رعایا بھی کم ہمت؟ والسلام نے کیا عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں نکتہ فرمایا ہے۔ ہیں تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے ہے یعنی تو نے ( محمد ) ترقی کی تو ہم بھی آگے بڑھے۔ پس امراء کے لئے دوں ہمتی بہت بڑا گناہ ہے اور عوام کے لئے بھی گناہ ہے۔ (11) چاپلوسی یونہی کسی کو خوش کرنے کے لئے باتیں بنانا چاپلوسی ہے۔ امراء کے نوکروں میں یہ بدی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ (۱۲) ناشکری اس سے دل میں کسی کے احسان کی قدر نہ ہونا۔ قدر نہ ہونا مراد ہے۔