انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxv
14 جائے اور کسی کتاب پر اعتبار باقی نہ رہے۔ پس غلطیوں اور کمیوں کے باوجود احادیث کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہوتی۔ کتب احادیث مخلص خادمان اسلام کی دیانتدارانہ اور ان تھک کوششوں کا خوبصورت اور شیریں پھل ہیں جن سے مسلمانوں کو خصوصاً اور دوسرے لوگوں کو عموماً بہت فائدہ پہنچا ہے اور پہنچتا رہے گا۔ اس اصولی بحث کے بعد حضور نے مصنف ہفوات کے اعتراضات کی نمبردار تردید کی ہے اور ایسی عمدہ کہ سب اعتراضات کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جن احادیث کو قابل اعتراض سمجھا گیا ہے حضور نے ان کی ایسی وضاحت فرمائی ہے کہ وہ معارف کا خزانہ نظر آنے لگتی ہیں۔ آپ کی یہ تحریر علم و عرفان کا ایک دلکش مرقع ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ (۱۵) تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء حسب معمول حضور نے جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ۲۷ دسمبر کی تقریر میں احباب جماعت کے سامنے بعض متفرق امور بیان کئے۔ یاد رفتگان کے سلسلہ میں آپ نے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کی وفات کا ذکر کر کے ان کے بلند مقام اور صفاتِ حسنہ کا تذکرہ فرمایا اور احباب کو ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی نصیحت فرمائی۔ جماعتی لحاظ سے اس سال کا ایک اہم واقعہ یعنی افتتاح مسجد فضل لندن کی تفصیل حضور نے بیان فرمائی کہ کس طرح شاہ ابن سعود کے بیٹے امیر فیصل مسجد کے افتتاح کے لئے لندن پہنچ گئے لیکن بعد میں ہندوستان اور مصر کے مخالف مولویوں کے شور سے ڈر کر انہیں افتتاح سے روک دیا گیا۔ حضور نے فرمایا کہ اس امر کو بھی خدا تعالیٰ نے مسجد اور جماعت احمد یہ کی شہرت کا موجب بنا دیا۔ اخبارات نے خوب خبریں دیں اور تبصرے لکھے۔ اس طرح جماعت کا ذکر یورپ کے دیگر ممالک کے علاوہ امریکہ تک پہنچ گیا۔ حضور نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے تقویٰ کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے تقویٰ کی تعریف اس کے حصول کے ذرائع اور اس کے فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ نیز فرمایا :۔ پس پورے جوش اور پوری ہمت کے ساتھ تقویٰ پر نہ صرف خود قائم ہو جاؤ بلکہ اسے دنیا میں قائم کرو اور دین کی نصرت کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرو۔