انوارالعلوم (جلد 9) — Page 210
انوار العلوم جلد 9 ۲۱۰ منهاج الطالبين کیونکہ کیا معلوم ہے کہ کب وہ گھڑی آ جائے جس کے لئے انسان ساری عمر کوشش کرتا رہتا ہے۔ ایک گھڑی ایسی آسکتی ہے کہ اُس وقت ایک کلمہ انسان کو کافر سے مؤمن بنا دیتا ہے۔ اسے شیطانی سے رحمانی بنا دیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی دیکھ لو۔ آپ رسول کریم ﷺ کی مخالفت میں انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے مگر ایک بات ان کے کان میں ایسی پڑگئی جس نے اُن کی حالت بالکل بدل دی۔ وہ رسول کریم ﷺ کے قتل کے لئے نکلے کہ انہیں معلوم ہوا اُن کی اپنی بہن مسلمان ہو چکی ہے۔ اس پر وہ اپنی بہن کے ہاں گئے اور گھر میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا۔ غصہ میں آکر اندر گھس گئے اور اپنے بہنوئی کو مارنے لگے۔ اس پر بہن بچانے لگی تو اس کے بھی چوٹ آئی۔ اس حالت کو دیکھ کر اُن کے دل میں کچھ ندامت پیدا ہوئی تھی کہ بہن نے کہا عمر! تم ہم پر اس لئے ناراض ہوتے ہو کہ ہم نے ایک خدا کو مانا ہے یہ سن کر وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے اور اپنی بہن سے کہا جو تم پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی سناؤ۔ اُن کی بہن نے کہا۔ پاک ہو کر آؤ تو سنائیں۔ وہ نہا کر آئے اور اُن کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔ جسے سن کر اُن کے آنسو رواں ہو گئے اور سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس آئے، آکر دستک دی، جب معلوم ہوا کہ عمر ہیں تو بعض نے کہا یہ دروازہ نہیں کھولنا چاہئے وہ سخت آدمی ہیں، نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ اگر مخالفت کی نیت سے آئے ہیں تو ہمارے پاس بھی تلوار ہے۔ آخر رسول کریم نے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ جب سامنے آئے تو رسول کریم اللہ نے فرمایا عمر! کب تک مخالفت کرتے رہو گے۔ اسپرانہوں نے کہا ئیں تو غلامی کے لئے آیا ہوں۔ اسے اب دیکھو انہیں کس طرح ہدایت نصیب ہوئی ؟ اگر وہ اس مجلس میں نہ جاتے تو شاید عمر ایمان سے محروم رہتے۔ آپ لوگوں کے لئے سارا سال آرام کرنے کے لئے پڑا ہے اس لئے یہ چند دن کی تکلیف اُٹھا کر بھی خدا تعالیٰ کا کلام سننا چاہئے اور کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا میں نے قرآن کریم کے ترجمہ کا کام شروع کیا ہوا ہے اور خدا کے فضل سے ۲۰ دسمبر کو سورہ بقرہ کا ترجمہ ختم ہو گیا ہے۔ اور اُمید ہے کہ اگلے سال ساڑھے سات پاروں کی پہلی جلد شائع ہو جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ احباب دعا کریں۔ بغیر اس کے کہ اس کام میں کوئی روک پیدا ہو میں اس کام کو سر انجام دے کر اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں اور تفسیر اور ترجمہ دوستوں تک پہنچا سکوں۔ تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل میں نے مالی مشکلات کی طرف جماعت کو توجہ دلائی