انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 206

انوار العلوم جلد 9 ۲۰۶ منهاج الطالبين ہوتا ہے مگر جب باپ پوچھتا ہے تو کہہ دیتی ہے میں نے نہیں کیا۔ اس سے بچہ میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کی غیر موجودگی میں ماں باپ یہ کام کریں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو ہر وقت ان عیبوں سے نہیں بچ سکتے وہ کم سے کم بچوں کے سامنے ایسے فعل نہ کریں تا مرض آگے نسل کو بھی مبتلاء نہ کرے۔ (۱۹) بچہ کو ہر قسم کے نشہ سے بچایا جائے۔ نشوں سے بچہ کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جھوٹ کی بھی عادت پیدا ہوتی ہے اور نشہ پینے والا اندھا دھند تقلید کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایک شخص حضرت خلیفہ اول کا رشتہ دار تھا وہ ایک دفعہ ایک لڑکے کو لے آیا اور کہتا تھا اسے بھی میں اپنے جیسا ہی بنالوں گا۔ وہ نشہ وغیرہ پیتا اور مذہب سے کوئی تعلق نہ رکھتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے اُسے کہا تم تو خراب ہو چکے ہو اسے کیوں خراب کرتے ہو، مگر وہ باز نہ آیا۔ ایک موقع پر آپ نے اُس لڑکے کو اپنے ؟ اپنے پاس بلایا اور اُسے سمجھایا کہ تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے۔ اس کے ساتھ پھرتے ہو، کوئی کام سیکھو۔ آپ کے سمجھانے سے وہ لڑکا اُسے چھوڑ کر چلا گیا۔ مگر کچھ مدت کے بعد وہ ایک اور لڑکا لے آیا۔ اور آکر حضرت خلیفہ اول سے کہنے لگا۔ اب اسے خراب کرو تو جانوں۔ اُس کے نزدیک یہی خراب کرنا تھا کہ اُس کے قبضہ سے نکال دیا جائے۔ حضرت خلیفہ اول نے بہتیرا اس لڑکے کو سمجھایا اور کہا کہ مجھ سے روپیہ لے لو اور کوئی کام کرو، مگر اُس نے نہ مانا۔ آخر آپ نے اُس شخص سے پوچھا اسے تم نے کیا کیا ہے۔ تو وہ کہنے لگا اس کو میں نشہ پلاتا ہوں اور اس وجہ سے اس میں ہمت ہی نہیں رہی کہ میری تقلید کو چھوڑ سکے۔ غرض نشہ سے اقدام کی قوت ماری جاتی ہے۔ جھوٹ سب سے خطرناک مرض ہے کیونکہ اس کے پیدا ہونے کے ذرائع نہایت باریک ہیں اس مرض سے بچہ کو خاص طور پر بچانا چاہئے۔ بعض ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ مرض آپ ہی آپ بچہ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلا یہ کہ بچہ کا دماغ نہایت بلند پرواز واقع ہوا ہے وہ جو بات سنتا ہے آپ ہی اُس کی ایک حقیقت بنا لیتا ہے۔ ہماری ہمشیرہ بچپن میں روز ایک لمبی خواب سنایا کرتی تھیں۔ ہم حیران ہوتے کہ روز اسے کسی طرح خواب آجاتی ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ سونے کے وقت جو خیال کرتی تھیں وہ اُسے خواب سمجھ لیتی تھیں۔ تو بچہ جو کچھ سوچتا ہے اُسے واقعہ خیال کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اُسے جھوٹ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اس لئے بچہ کو سمجھاتے رہنا چاہئے کہ خیال اور چیز ہے اور واقعہ اور چیز ہے۔ اگر خیال کی حقیقت بچہ کے اچھی طرح ذہن