انوارالعلوم (جلد 9) — Page 205
انوار العلوم جلد 9 ۲۰۵ منهاج الطالبين میں داری کا احساس ہو۔ ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے تھے۔ اس نے دونوں کو بلا کر ان سے ایک کو سیب دیا اور کہا بانٹ کر کھالو : دیا اور کہا بانٹ کر کھالو۔ جب وہ سیب لے کر چلنے لگا تو باپ نے کہا جانتے ہو کس طرح بانٹنا ہے۔ اُس نے کہا نہیں۔ باپ نے کہا جو بانٹے وہ تھوڑا لے اور دوسرے کو زیادہ دے یہ سن کر لڑکے نے کہا پھر دوسرے کو دیں کہ وہ بانٹے۔ معلوم ہوتا ہے اس لڑکے میں پہلے ہی بڑی عادت پڑ چکی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امر کو سمجھتا تھا کہ اگر ذمہ داری مجھ پر پڑی تو مجھے دوسرے کو اپنے پر مقدم کرنا پڑے گا۔ اس عادت کے لئے بعض کھیلیں نہایت مفید ہیں۔ جیسے کہ فٹ بال وغیرہ۔ مگر کھیل میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کوئی بڑی عادت نہ پڑے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کی تائید کرتے ہیں اور دوسرے کے بچہ کو اپنے بچہ کی بات ماننے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح بچہ کو اپنی بات منوانے کی ضد پڑ جاتی ہے۔ (۱۵) بچہ کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہئے کہ وہ نیک ہے اور اچھا ہے۔ رسول کریم ا نے کیا نکتہ فرمایا ہے کہ بچہ کو گالیاں نہ دو کیونکہ گالیاں دینے پر فرشتے کہتے ہیں ایسا ہی ہو جائے اور وہ ہو جاتا ہے۔ ど اس کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے اعمال کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ جب بچہ کو کہا جاتا ہے کہ تو بد ہے تو وہ اپنے ذہن میں یہ نقشہ جما لیتا ہے کہ میں بد ہوں اور پھر وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ پس بچہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں بلکہ اچھے اخلاق سکھانے چاہئیں اور بچہ کی تعریف کرنی چاہئے۔ آج صبح میری لڑکی پیسہ مانگنے آئی۔ جب میں نے پیسہ دیا تو بایاں ہاتھ کیا۔ میں نے کہا یہ تو ا ٹھیک نہیں، کہنے لگی ہاں غلطی ہے پھر نہیں کروں گی۔ اسے غلطی کا احساس کرانے سے فوراً احساس ہو گیا۔ (۱۶) بچہ میں ضد کی عادت نہیں پیدا ہونے دینی چاہئے۔ اگر بچہ کسی بات پر ضد کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کسی اور کام میں اُسے لگا دیا جائے اور ضد کی وجہ معلوم کر کے اُسے دور کیا جائے۔ (۱۷) بچہ سے ادب سے کلام کرنا چاہئے۔ بچہ نقال ہوتا ہے ، اگر تم اُسے تو کہہ کر مخاطب کرو گے تو وہ بھی تو کہے گا۔ (۱۸) بچہ کے سامنے جھوٹ، تکبر اور ترش روئی وغیرہ نہ کرنا چاہئے، کیونکہ وہ بھی یہ باتیں سیکھ لے گا۔ عام طور پر ماں باپ بچہ کو جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں۔ ماں نے بچہ کے سامنے کوئی کام کیا