انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiv of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxiv

14 فرماتے ہیں:۔ " اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تصنیف کے اصل مخاطب اہلحدیث صاحبان ہیں اور اگر وہی مسلک ہم اختیار کرتے جو وہ لوگ ہمارے متعلق اختیار کیا کرتے ہیں تو شاید ہمارا طریق بھی یہ ہوتا کہ ہم اس جنگ کا لطف دیکھتے اور ایک دوسرے کی نصیحت اور تحقیر کو خاموشی سے ملاحظہ کرتے۔ لیکن چونکہ ہمارا رویہ تقومی پر مبنی ہے اور اسلام کی محافظت اور اس کے خزائن کی نگرانی کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس لئے میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ یہ کتاب بلا جواب کے رہے اور اسلام کے چھے دشمن اسلام کے ظاہری دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر رخنہ اندازی کرنے کا کام بلا روک ٹوک کرتے چلے جائیں۔" مصنف ہفوات نے بعض روایات کو بنیاد بنا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ گویا احادیث کے تمام مجموعے اعتبار کے قابل نہیں۔ حضور نے ابتداء علم حدیث پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ احادیث کی صحت ان کی ضرورت اور فوائد تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ حدیث کی اہمیت واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ " غرض بعض روایات کی غلطی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کام ہی عبث تھا اور نہ محدثین کی خدمتِ اسلام میں کوئی شبہ لاحق ہوتا ہے اور نہ ان کی شان میں کوئی کمی آتی ہے۔ انہوں نے فوق العادت محنت سے رسول کریم ملی کی مجلس کے نقشہ کو ہمارے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ اور اگر ہم میں سے کوئی ان کی بشری غلطیوں سے ٹھو کر کھاتا ہے تو یہ اس کی بد قسمتی ہے۔ اگر وہ اس قسم کی غلطیوں سے ڈر کر اس کام کو چھوڑ دیتے تو یقینا اللہ تعالیٰ کے حضور میں مجرم ہوتے اور ان سے پوچھا جاتا کہ کیوں انہوں نے ایک مفید علم کو زندہ گاڑ دیا ۔ “ ९९ مصنف ہفوات نے لکھا ہے کہ چونکہ بعض ایسی احادیث مروی ہیں جو رسول کریم سلیم کی شان کے خلاف ہیں اس لئے ان کتب کو جلا دینا چاہئے اور مٹا دینا چاہئے۔ حضور نے ان کے اس خیال کی تردید کی ہے اور اسے ان کی کم علمی اور جہالت پر مبنی قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا قاعدہ نہیں کہ جس کتاب میں کوئی غلطی ہو جائے اسے جلا دیا جائے یا اس حصہ کو کتاب سے نکال دیا جائے۔ اگر اس طریق پر عمل کیا جائے تو دنیا سے علوم کا خاتمہ ہو