انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 204

۲۰۴ اُٹھا لاؤ۔یہ چیز وہاں رکھ آؤ۔یہ چیز فلاں کو دے آئو۔اِسی قسم کے اور کام کرانے چاہئیں ہاں ایک وقت تک اسے اپنے طور پر کھیلنے کی بھی اجازت دینی چاہئے۔(۸) بچہ کو عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر اعتبار پیدا کرے۔مثلاً چیز سامنے ہو اور اُسے کہا جائے ابھی نہیں ملے گی۔فلاں وقت ملیگی۔یہ نہیں کہ چھپا دی جائے۔کیونکہ اِس نمونہ کو دیکھ کر وہ بھی اسی طرح کریگا۔اور اس میں چوری کی عادت پیدا ہو جائیگی۔(۹) بچہ سے زیادہ پیار بھی نہیں کرنا چاہئے۔زیادہ چومنے چاٹنے کی عادت سے بہت سی بُرائیاں بچہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔جس مجلس میں وہ جاتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ پیار کریں۔اس سے اس میں اخلاقی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔(۱۰) ماں باپ کو چاہئے کہ ایثار سے کام لیں۔مثلاً اگر بچہ بیمار ہے اور کوئی چیز اُس نے نہیں کھانی تو وہ بھی نہ کھائیں اور نہ گھر میں لائیں بلکہ اُسے کہیں کہ تم نے نہیں کھانی اس لئے ہم بھی نہیں کھاتے۔اس سے بچہ میں بھی ایثار کی صفت پیدا ہوگی۔(۱۱) بیماری میں بچہ کے متعلق بہت احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ بُزدلی، خود غرضی، چڑچڑاہٹ جذبات پر قابو نہ ہونا اس قسم کی بُرائیاں اکثر لمبی بیماری کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو بُلا بُلا کرپاس بٹھاتے ہیں۔لیکن کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اُن کے پاس سے گذرے تو کہہ اٹھتے ہیں۔ارے دیکھتا نہیں، اندھا ہو گیا ہے۔یہ خرابی لمبی بیماری کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہے۔چونکہ بیماری میں بیمار کو آرام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے وہ آرام پانا اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔اور ہر وقت آرام چاہتا ہے۔(۱۲) بچوں کو ڈراؤنی کہانیاں نہیں سُنانی چاہئیں۔اِس سے اُن میں بُزدلی پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان بڑے ہو کر بہادری کے کام نہیںکر سکتے۔اگر بچہ میں بُزدلی پیدا ہو جائے تو اُسے بہادری کی کہانیاں سُنانی چاہئیں۔اور بہادر لڑکوں کے ساتھ کھلانا چاہیئے۔(۱۳) بچہ کو اپنے دوست خود نہ چُننے دئے جائیں بلکہ ماں باپ چنیں اور دیکھیں کہ کن بچوں کے اخلاق اعلیٰ ہیں۔اس میں ماں باپ کو بھی یہ فائدہ ہوگا کہ وہ دیکھیں گے کِن کے بچوں کے اخلاق اعلیٰ ہیں۔دوسرے ایک دوسرے سے تعاون شروع ہو جائیگا۔کیونکہ جب خود ماں باپ بچہ سے کہیں گے کہ فلاں بچوں سے کھیلا کرو تو اس طرح ان بچوں کے اخلاق کی نگرانی بھی کریں گے۔(۱۴) بچہ کو اس کی عمر کے مطابق بعض ذمہ داری کے کام دیئے جائیں تاکہ اس میں ذمہ