انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 197

۱۹۷ گناہ آلود حالتیں گناہ کے خلاف جدّو جہد کرنے کے لئے گناہ آلود حالتوں کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے اسلئے اب میں گناہ آلود حالتوں کا بھی اِس جگہ ذکر کر دیتا ہوں۔پہلی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے مگر کبھی کبھی اس سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔دوسری حالت یہ ہے۔گناہ کو بُرا تو سمجھتا ہے مگر اکثر لالچوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔تیسری حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو بُرا تو نہیں سمجھتا مگر گناہ کی خواہش بھی نہیں ہوتی۔یعنی اگر موقعہ پیش آجائے تو گناہ سے نفرت بھی نہیں کرتا۔چوتھی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو پسند کرتا ہے مگر اس میں حیا کا مادہ ہوتا ہے اِس لئے پوشیدہ گناہ کرتا ہے۔اور اگر گناہ سے رُکتا ہے تو عادت یا رسم کی وجہ سے رُکتا ہے۔پانچویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان عادت اور رسم کو توڑ کر گناہ کے ارتکاب پر دلیر ہو جاتا ہے اور گناہ کو پسند کرتا ہے۔چٹھی حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان دوسروں کو بدی کی ترغیب دیتا اور اسے اچھا قرار دیتا ہے۔ساتویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان شیطان کا بروز ہوجاتا ہے اور اس کا مقصد ہی بدی پھیلانا ہوجاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں نیکی کی یہ حالتیں ہیں: اوّل: بہ خواہشِ ثواب نیکی کرنا۔دوم: بطور فرض نیکی کرنا کہ خدا کا حکم ہے۔سوم: نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا۔چہارم: نیکی کو بطور عادت کرنا۔پنجم: نیکی میں ہی اپنی خوشی پانا۔ششم: دُنیا میں نیکی پھیلانے کی کوشش کرنا۔ہفتم: نیکی کا مجسم ہو جانا اور نیکی کے پھیلانے کو اپنا مقصدِ وحید قرار دے لینا۔یعنی ملائکہ کی طرح ہو جانا۔اس کے اوپر اور بھی درجے ہیں۔مگر وہ کسبی نہیں بلکہ وہبی ہیں۔یعنی نبوت کے مدارج۔مَیں اوپر بتا آیا ہوں کہ اخلاق اور روحانیت میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہی صفات جب بندوں کے متعلق استعمال ہوں تو اخلاق کہلاتی ہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوں تو روحانیت۔اس لئے جو اصولی علاج ایک کا ہوگا وہی دوسرے کا۔اس لئے مجھے اخلاقی اور روحانی