انوارالعلوم (جلد 9) — Page 197
انوار العلوم جلد 9 ۱۹۷ منهاج الطالبين گناہ آلود حالتیں گناہ کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے گناہ آلود حالتوں کا جانتا بھی نہایت ضروری ہے اس لئے اب میں گناہ آلود حالتوں کا بھی اس جگہ ذکر کر دیتا ہوں۔ پہلی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے مگر کبھی کبھی اس سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ دوسری حالت یہ ہے کہ گناہ کو بڑا تو سمجھتا ہے مگر اکثر لالچوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور گناہ میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ تیسری حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو بڑا تو نہیں سمجھتا مگر گناہ کی خواہش بھی نہیں ہوتی۔ یعنی اگر موقع پیش آجائے تو گناہ سے نفرت بھی نہیں کرتا۔ چوتھی حالت یہ ہے کہ انسان گناہ کو پسند کرتا ہے مگر اس میں حیا کا مادہ ہوتا ہے اس لئے پوشیدہ گناہ کرتا ہے۔ اور اگر گناہ سے رکتا ہے تو عادت یا رسم کی وجہ سے رکتا ہے۔ پانچویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان عادت اور رسم کو توڑ کر گناہ کے ارتکاب پر دلیر ہو جاتا ہے اور گناہ کو پسند کرتا ہے۔ چھٹی حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان دوسروں کو بدی کی ترغیب دیتا اور اسے اچھا قرار دیتا ہے۔ ساتویں حالت یہ ہوتی ہے کہ انسان شیطان کا بروز ہو جاتا ہے اور اس کا مقصد ہی بدی پھیلانا ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نیکی کی یہ حالتیں ہیں۔ اول بخواہش ثواب نیکی کرنا۔ دوم۔ بطور فرض نیکی کرنا کہ خدا کا حکم ہے۔ سوم۔ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا۔ چہارم ۔ نیکی کو بطور عادت کرنا۔ پنجم۔ نیکی میں ہی اپنی خوشی پانا۔ ششم۔ دنیا میں نیکی پھیلانے کی کوشش کرنا۔ ہفتم۔ نیکی کا مجسم ہو جانا اور نیکی کے پھیلانے کو اپنا مقصد وحید قرار دے لینا۔ یعنی ملائکہ کی طرح ہو جاتا۔ اس کے اوپر اور بھی درجے ہیں۔ مگر وہ کسی نہیں بلکہ وہی ہیں۔ یعنی نبوت کے مدارج۔ میں اوپر بتا آیا ہوں کہ اخلاق اور روحانیت میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہی صفات جب بندوں کے متعلق استعمال ہوں تو اخلاق کہلاتی ہیں۔ اور جب خدا تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوں تو روحانیت۔ اس لئے جو اصولی علاج ایک کا ہو گا وہی دوسرے کا۔ اس لئے مجھے اخلاقی اور روحانی