انوارالعلوم (جلد 9) — Page 196
۱۹۶ متاثر کیا اور اُس کے پاس چلا گیا۔لیکن جب مَیں نے اُسے پکڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو چونکہ میرا ہاتھ میری اور اُس کی آنکھوں کے درمیان آگیا اس لئے وہ ہاتھ سے نکل کر اُڑ گئی۔ایک سیاح لکھتا ہے۔مَیں نے جنگل میں دیکھا کہ ایک گلہری بے تحاشہ دوڑ رہی ہے مگر دور نہیں جاتی۔ہِر پھر کر اسی جگہ آجاتی ہے۔مَیں نے قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک سانپ سر نکالے اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔آخر وہ بالکل اسکے نزدیک چلی گئی اور سانپ اُسے منہ میں ڈالنے ہی والا تھا کہ مَیں نے اُسے کوڑا مارا اور وہ بھاگ گیا۔یہ سانپ کے خیالات کا ہی اثر تھا کہ وہ گلہری بھاگ کر دور نہ جا سکتی تھی اور آخر بالکل قریب آگئی۔ایک اور سیاح لکھتا ہے۔افریقہ کے ایک جنگل میں مَیں نے دیکھا کہ ایک پرندہ پھڑ پھڑا رہا ہے قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سانپ اس کی طرف نظر جمائے بیٹھا ہے۔مَیں نے سانپ کو مار دیا بعد میں دیکھا تو وہ جانور بھی اس خوف اور صدمہ سے کہ مَیں پکڑا جائونگا۔مرا پڑا تھا۔انگلستان میں ایک اور طریق سے تجربہ کیا گیا ہے۔اور وہ اس طرح کہ ایک جنس کے دو کیڑے لائے گئے۔ان میں سے ایک پانچ میل کے فاصلہ پر رکھ دیا گیا مگر وہ دوسرے کیڑے کے پاس خود بخود پہنچ گیا۔یہ خیالات کی رَو کا ہی نتیجہ تھا۔امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے چیونٹیوں کا گھر بنایا جسے چاروں طرف سے بند کر دیا۔اسکے بعد دیکھا گیا کہ باہر کی طرف سے چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں۔جب اس کمرہ کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ اسی جگہ چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں جس طرف چیونٹیوں کا گھر تھا۔پھر اسے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا اور چیونٹیاں ادھر ہی جا چمٹیں۔حالانکہ درمیان میں دیوار حائل تھی۔اِن واقعات سے ثابت ہے کہ خیالات کی رَو ایک زبردست طاقت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے تو ستر بار استغفار پڑھتے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپؑ ڈرتے تھے کہ آپؑ گندے نہ ہو جائیں لیکن یہ ضرور ہے کہ نبی گندگی کے پاس آنا بھی پسند نہیں کرتے اس لئے آپؑ بھی استغفار پڑھتے تھے کہ گندگی دور ہی رہے۔پھر بعض لوگ ایسے بھی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو خود گندے نہیں ہوتے مگر دوسروں کا اثر قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔پس آپ اس لئے بھی استغفار پڑھتے تھے کہ ان پر کسی گندگی کا اثر نہ ہو۔