انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 191

۱۹۱ جیسا کہ فرماتا ہے: انّا ھدینٰہ السّبیل اِمّا شاکراً و اِمّا کفوراً۔یعنی ہم نے انسان کو ہر رنگ کی طاقت دیکر قدرت دے دی ہے۔چاہے کافر بنے چاہے شکر گذار۔دُنیا میں اکثر بدی کیوں ہے؟ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان میں یہ طاقت ہے کہ بدی کو دبا سکتا ہے تو دُنیا میں بدی کیوں زیادہ ہے اور نیکی کیوں کم ہے؟ اِس سوال کا جواب مَیں نے پہلے بھی اپنی ایک تقریر میں دیا تھا۔مگر پچھلے دنوں چار پانچ آدمیوں نے مختلف مقامات سے یہ سوال لکھ کر بھیجا ہے۔نہ معلوم ایک ہی وقت میں یہ سوال کس طرح پیدا ہو گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دُنیا میں بُرائی زیادہ نہیں بلکہ نیکی زیادہ ہے۔دیکھو ایک چور جس میں چوری کی بُرائی پائی جاتی ہے وہ اگر کئی نیک کام کرے۔مثلاً خوش خلق ہو، سخی ہو، ماں باپ کی خدمت کرنیوالا ہو تو اس میں نیک خلق زیادہ ہوئے یا بُرے۔پس اگر اخلاق کو مدّ نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بد اخلاقی کم ہوگی اور نیک اخلاق زیادہ ہونگے۔اکثر نیک اخلاق لوگوں میں پائے جائینگے۔اور بد اخلاقیاں کم ہونگی۔یہ شُبہ کہ دُنیا میں بُرائیاں بہ نسبت نیکیوں کے زیادہ ہیں دو وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ایک تو اِس وجہ سے کہ لوگ دیکھتے ہیں۔دُنیا میں کافر زیادہ ہوتے ہیں اور مؤمن کم۔اور دوسرے اس وجہ سے کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اکثر انسانوں میں کچھ عیوب نظر آتے ہیںلیکن یہ دونوں اُمور ہر گز ثابت نہیں کرتے کہ دُنیا میں بدی زیادہ ہے۔بلکہ باوجود اِن دونوں اُمور کے دُنیا میں نیکی زیادہ ہے۔اگر پہلی بات کو یعنی اس امر کو کہ دُنیا میں کافر زیادہ ہیں لیا جائے تو غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ ایک دھوکہ ہے جو حقیقت پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔حقیقت یہ نہیں کہ دُنیا میں کافر زیادہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دُنیا میں کافر کہلانیوالے زیادہ ہیں۔کیونکہ اگر تحقیق کی جائے تو دُنیا میں سے اکثر آدمی وہی ملیں گے جن پر باطنی حجت پوری نہیں ہوئی۔پس گو ان کا نام ظاہر شریعت کی بناء پر کافر رکھا جائے خدا تعالیٰ کے نزدیک ان میں کفر کی حقیقت نہیں پائی جاتی بلکہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ یا پھر موقع دیگا یا ان کے فطری اعمال یعنی شرک و توحید کی بناء پر انہیں سزا یا جزا دیگا۔پس حقیقت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اصل میں ایمان ہی زیادہ ہے اور اسی نسبت سے نیکی بدی کی نسبت زیادہ ہے۔دوسری وجہ بھی کہ اکثر لوگوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں، باطل ہے۔کیونکہ سوال یہ نہیں کہ