انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 190

۱۹۰ ذات میں ایک معجزہ ہے۔بلکہ اتنا بڑا معجزہ ہے کہ وہی آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔قرآن کریم کو چھوڑ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم کا وہی منبع ہے اور کسی نے اِس حقیقت کو بیان نہیں کیا۔آپ نے ایسے الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ وہ دل کو اُمید سے پُر کر دیتے ہیں۔آپ جماعت کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: ’’یہ خیال نہ کرو کہ ہم گنہگار ہیں۔ہماری دُعا کیونکر قبول ہوگی۔انسان خطا کرتا ہے مگر دعا کے ساتھ آخر نفس پر غالب آجاتا ہے اور نفس کو پامال کر دیتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر یہ قوت بھی فطرتاً رکھ دی ہے کہ وہ نفس پر غالب آجائے۔دیکھو پانی کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دے۔پس پانی کو کیسا ہی گرم کرو اور آگ کی طرح کر دو۔پھر بھی جب وہ آگ پر پڑیگا تو ضرور ہے کہ آگ کو بجھا دے جیسا کہ پانی کی فطرت میں برودت ہے ایسا ہی انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک شخص میں خدا تعالیٰ نے پاکیزگی کا مادہ رکھ دیا ہوا ہے۔اس سے مت گھبرائو کہ ہم گناہ سے ملوث ہیں۔گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑے پر ہوتی ہے اور دور کی جا سکتی ہے۔تمہارے طبائع کیسے ہی جذبات نفسانی کے ماتحت ہوں خدا تعالیٰ سے رو رو کر دُعا کرتے رہو تو وہ ضائع نہ کریگا۔وہ حلیم ہے۔وہ غفور رحیم ہے۔‘‘ (بدر ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء تقریر جلسہ سالانہ) یہ ایسا پُر اُمید پیغام ہے کہ گو اجمالی طور پر قرآن کریم میں پایا جاتا ہے مگر اور کسی کتاب میں اس کو اس رنگ میں نہیں بیان کیا۔جس رنگ میں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اجمال کے طور پر قرآن کریم سے اس بیش بہاء تعلیم کو لیا ہے اور کسی کتاب نے بیان نہیں کیا۔اور تشریح کو مدّ نظر رکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کمال کر دیا ہے۔اُوپر کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان میں ایسا مادہ ہے کہ جب بھی اسکو کام میں لایا جائے سب گناہوں کو دور کر دیتا ہے اور اصلاح کر دیتا ہے۔فطرت کا میلان نیکی کی طرف ہے یا بدی کی طرف اِس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر فطرت کا سیلان نیکی کی طرف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فطرت کا میلان نہ نیکی کی طرف ہے نہ بدی کی طرف۔ہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیتیں دیکر بھیجا ہے اور اسے مقدرت دی ہے کہ وہ انہیں نیک و بد طور پر استعمال کر سکے۔پھر وہ اسے سیدھا راستہ دکھا کر چھوڑ دیتا ہے۔