انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 188

انوار العلوم جلد 9 ۱۸۸ منهاج الطالبين اس کی غرض ساتھ ہی کامل ہونے کی نہیں اور خدا کی رضا کی اسے جستجو نہیں تو کمال اُسے کس طرح حاصل ہو گا۔ باطنی اور ذہنی افعال کا دار ومدار تو ر تو نیتوں پر بہت ہی مبنی ہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ جسمانی افعال بھی نیتوں سے وابستہ ہیں۔ ورزش کرتے وقت اگر جسم کی طاقت کا خیال رکھا جائے تو اعلیٰ نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور اگر نہ رکھا جائے تو ادنی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم رضائے الہی کے لئے اخلاق پر عمل کرتے ہیں اور رضائے الہی کے حصول سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں کچھ آئندہ دے بلکہ یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے کا شکر ادا کریں۔ اور اخلاقی طور پر اس کے حضور سرخرو ٹھہریں۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں معترض خود اپنی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ اگر انعام کامل جانا خود غرضی ہے تو اس کے اندر بھی خود غرضی موجود ہے۔ ہم اس سے دریافت کرتے ہیں کہ بیمار کا علاج کوئی شخص کیوں کرتا ہے۔ اگر وہ کہے کہ ولی رحم کی وجہ سے، تو پھر یہ خوبی نہ رہی کیونکہ اگر اسے دل مجبور کرتا ہے کہ ضرور علاج کرو تو پھر علاج کرنے والے کی یہ خوبی نہیں وہ تو اپنے دل سے مجبور ہو کر کر رہا ہے۔ اگر یہ نہیں تو کوئی اور وجہ ہوگی اور وہ تعاون کا خیال ہے۔ انسان سمجھتا ہے آج میں کسی کا علاج کرونگا تو گل میرا بھی کوئی کریگا۔ اس میں بھی اس کام کا بدلہ ملنے کا خیال ہو گیا۔ اس کے مقابل پر ہماری طرف دیکھو کہ ہم یہ نیت نہیں رکھتے کہ جو ہم کام کرتے ہیں ان کا بدلہ روپے پیسہ کی شکل میں ہمیں آئندہ ملے۔ بلکہ یہ نیت کرتے ہیں کہ ہم اس پہلے انعام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمیں اس وقت تک خدا تعالی کی طرف سے مل چکا ہے۔ با اخلاق کسے کہتے ہیں؟ آپ میں یہ بتاتاہوں کہ باخلاق کے کہتے ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک جس میں سب خوبیاں ہوں اور جو سب عیبوں سے پاک ہو وہ با اخلاق ہوتا ہے۔ باقی مذاہب والے بھی تھوڑے بہت اسی طرف گئے ہیں۔ مگر اسلام کہتا ہے۔ فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَة " کہ جس کی نیکیاں زیادہ ہوں وہ اچھے اخلاق والا ہے اور جس کی بدیاں زیادہ ہوں وہ بد اخلاق ہے۔ دیگر مذاہب والے کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص ساری عمر نیکیاں کرتا رہے اور ایک بدی کا مرتکب ہو جائے تو بد اخلاق ہو گا۔ لیکن اسلام کہتا ہے جو شخص کوشش کر کے کثرت کے ساتھ خوبیاں پیدا کر لیتا ہے اس میں اگر بعض عیوب بھی ہوں جن کو خوبیاں چھپا لیں تو وہ با اخلاق ہے۔