انوارالعلوم (جلد 9) — Page 187
انوار العلوم جلد 9 ۱۸۷ منهاج الطالبين سے بچے گا اُسے یہ بدلہ دیا جائے گا اور جو فلاں افعال کرے گا اُسے یہ بدلہ دیا جائے گا۔ پس یہ تجارت نہیں بلکہ انعام ہے کیونکہ تجارت میں انسان اپنے کام کی قیمت خود مقرر کرتا ہے یہاں بدلہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے کا مقرر شدہ ہے اور طبعی بدلہ ہے۔ خواہ ہم خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت رکھیں یا نہ رکھیں وہ بدلہ ہمیں مل رہا ہے اور ملے گا پس یہ تجارت نہیں۔ تجارت تو یہ ہے کہ مثلاً ایک کے پاس گھی ہے اور دوسرے کے پاس روپیہ۔ وہ روپیہ دے کر گھی خرید لیتا ہے لیکن بیچنے والا مختار ہے خواہ اپنی چیز دے یا نہ دے۔ مگر یہاں معاملہ برعکس ہے کیونکہ کام لینے والے نے خود ہی انعام کا وعدہ کیا ہے اور کام کرنے والے نے اس سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ پھر یہ فرق ہے کہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جس کے ہم بہر حال محتاج ہیں۔ اگر وہ افعال جنہیں ہم بہ نیت ثواب کرتے ہیں نہ بھی ہوں تب بھی اس کے احسان سے جیتے ہیں۔ اس ایسے شخص کے انعام کو جس کے انعام کے بغیر ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے تجارت نہیں کہا جا سکتا تجارت اسی سے ہوتی ہے جس سے ہم مستغنی ہوں خواہ تعلق رکھیں یا نہ رکھیں۔ دوسرا الله به انہ ہو تو وہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے بشرطیکہ یہ کہا جائے کہ ا ئے کہ اگر یہ نیت ثوا ثواب کوئی کام نہ : اخلاق سے نہیں۔ اصل جواب ان اعتراضوں کا یہ ہے کہ تم لوگ ثواب کی حقیقت کو نہیں سمجھے، ثواب کے معنے اگر روپیہ پیسہ کے ہوں تو بیشک تمہارا اعتراض درست ہو سکتا ہے، مگر ثواب کے معنے روپیہ اور پیسہ کے نہیں ہیں بلکہ اس اعلیٰ مقصد کے حاصل ہونے کے ہیں جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور وہ مقصد صد یہ ہے کہ ہم کامل الصفات ہو جائیں۔ ہمارے اندر وہ طاقت پیدا ہو جائے جس سے پاکیزگی ہمارا ذاتی جوہر ہو جائے اور ہم طہارت کا سرچشمہ ہو جائیں۔ جو انعامات کہ بظاہر مادی معلوم ہوتے ہیں وہ یا تو استعارے ہیں اور یا پھر اصل مقصد نہیں بلکہ لوازمات سے ہیں، اور لوازمات اصل مقصد نہیں ہوتے۔ ایک دوست کی انسان خاطر کرتا ہے، وہ خاطر اصل نہیں بلکہ لازمہ ہے، اصل دلی میلان اور اندرونی اتصال ہے۔ اسی طرح ثواب سے مراد کھانا اور پینا نہیں بلکہ کمال ذاتی کا حصول ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یعنی انسانی پیدائش کی غرض عبد بننا ہے۔ پس ثواب یہ ۔ کہ انسان کو عبد بننے کی توفیق عطا ہو اور وہ کامل ہو جائے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ اس غرض سے کام کرنے سے ہی اخلاق اخلاق کہلا سکتے ہیں ورنہ وہ صرف ظاہری مشقیں ہیں اور کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص ظاہری اخلاق کے مطابق عمل کریگا وہ دنیا میں ایک حد تک فائدہ اٹھائے گا۔ لیکن اگر !