انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 182

۱۸۲ اچھا اور بُرا تو کہہ سکتے ہیں مگر اخلاقِ فاضلہ یا سیئہ نہیں کہہ سکتے۔جس طرح ہر چیز جو کام نہ دے ہم اُسے بُرا اور جو کام دے اسے اچھا کہنے لگ جاتے ہیں اور اسکے یہی معنے ہوتے ہیں کہ ان چھ خاصیتوں کا ظہور ان سے قانونِ قدرت کے مطابق پوری طرح ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔دیکھو یہ سوٹی اگر کسی پر جاگرے تو اسے بُرا محسوس ہوگا مگر یہ نہیں کہیگا کہ یہ سوٹی کی بد خلقی ہے۔اسی طرح اگر کسی کو کہیں پڑا ہوا ایک پیسہ مل جائے تو وہ کہیگا اچھی بات ہے مگر یہ نہ کہیگا کہ پیسہ کی بڑی مہربانی ہے۔پس جب تک افعال مادی ظہور کے مطابق ہوں ہم انہیں اچھا یا بُرا تو کہہ سکتے ہیں مگر اخلاق نہیں قرار دے سکتے۔اچھا یا بُرا کہنے سے مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ ہماری منشاء کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں یا ہمارے منشاء کے خلاف۔بعض دفعہ اچھائی یا بُرائی نسبتی ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کو گولی لگی تو جو اُس شخص کے ہمدرد ہونگے وہ کہیں گے بُرا ہوا لیکن جو مخالف ہوں گے وہ کہیں گے اچھا ہوا۔یہ بُرائی اور اچھائی نسبتی ہے۔ہم اسے خُلق نہیں کہہ سکتے۔یہ ایک طبعی قوت کا اظہار ہے جو طبعی قوانین کے ماتحت ظاہر ہو رہی ہے۔ارادہ کا چونکہ دخل نہیں اس لئے اسے خُلق بھی نہیں کہتے۔مگر فعل ایک ہی قسم کا ہے۔ہاں مگر جب ترقی کرتے کرتے مادہ انسانی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ چھ خاصیتیں سینکڑوں شکل میں ظاہر ہونے لگتی ہیں چونکہ انسان مادہ سے مرکب در مرکب ہو کر بنا ہے اور اس وجہ سے یہ خاصیتیں بھی اسکے اندر مرکب در مرکب ہوتی چلی گئی ہیں۔انکی مثال رنگوں کی ہے کہ جو اصل میں تو صرف چھ سات ہیں مگر ان کو مرکب کرکے سینکڑوں رنگ پیدا کر لئے گئے ہیں۔چونکہ انسان میں ان خاصیتوں کا ظہور نئے رنگ میں ہونے لگتا ہے اسے خلق کہتے ہیں۔گویا وہ ایک نئی پیدائش ہے۔اور خَلق یعنی جسمانی پیدائش سے ممتاز کرنے کے لئے اسے خُلق پیش سے کہنے لگے ہیں ورنہ اصل میں وہی چھ خاصیتیں ہیں جو ابتدائی سے ابتدائی مادہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔جب تک وہ جمادات میں کام کرتی ہیں ان کو طاقتیں کہتے ہیں۔جب نباتات میں ایک زیادہ مکمل ظہور ان کا ہوتا ہے انہیں حسیں کہتے ہیں۔جب حیوانات میں اس سے بھی زیادہ مکمل ظہور ہوتا ہے تو انہیں شہوات یا طبعی تقاضے کہتے ہیں۔اور جب اس سے بھی زیادہ مکمل صورت میں انسان میں ان کا ظہور ہوتا ہے تو فکر اور ارادے کے بغیر انکے ظہور کو طبعی تقاضے یا اظہارِ فطرت کہتے ہیں۔اور جب ارادے یا فکر کے ماتحت اُن کا ظہور ہوتا ہے تو اسے خُلق کہتے ہیں۔یعنی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئیں۔جیسے قرآن کریم میں بھی انسان کی تخلیق کے متعلق آتا ہے ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طینٍ۔