انوارالعلوم (جلد 9) — Page 176
۱۷۶ منہاج الطالبین کے ساتھ تعاون کرے (۳) اس کے تعلقات انسانوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق سے بھی درست ہوں۔پھر آگے ان کی دو شاخیں ہیں (ا) ان امور سے مجتنب رہے جو بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق کو خراب کرتے ہوں (ب) ان امور پر کاربند ہو جن سے بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق سے اس کا تعلق احسان پر مبنی ہو جائے۔پھر خد اتعالیٰ سے تعلق درست رکھنے کے بھی دو حصے ہیں (۱) ان افعال سے اجتناب کرے کہ جو اس تعلق کو توڑنے والے ہیں (۲) ان افعال پر کاربند ہو جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو بڑھاتے ہیں۔اِس تقسیم کے بعد مَیں یہ بتاتا ہوں کہ دین اور مذہب کے کیا معنے ہیں کیونکہ ان سب باتوں کا خلاصہ دین ہے۔اور اب مَیں یہ بتاتا ہوں کہ دین کی تشریح کیا ہے۔یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دین دو شقوں میں منقسم ہے۔یعنی دین کے دہ حصے ہیں (۱) اخلاق (۲) روحانیت۔مَیں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے جنہیں یہ دھوکہ لگا ہے کہ وہ اخلاق کو ہی دین سمجھتے ہیں۔جس کے اخلاق اچھے ہوں اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا نیک ہے حالانکہ اس کے متعلق ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا آدھا حصہ درست ہے مگر اسے نیک یعنی دیندار اور متقی نہیں کہہ سکتے۔اخلاق کی تعریف انسان کے اعمال کا وہ حصہ جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے اخلاق کہلاتا ہے۔اور وہی معاملہ جب خدا تعالیٰ سے کیا جائے تو اسے روحانیت کہتے ہیں۔اگر کوئی انسان بندوں سے جھوٹ بولتا ہے تو وہ بد اخلاق ہے اور اگر خدا سے جھوٹ بولتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کی روحانیت مردہ ہو گئی ہے۔اور جب کسی کے دونوں پہلو درست ہوں تب ہی وہ دیندار اور متقی کہلا سکتا ہے۔پس جب اخلاق مطابق شریعت کئے جائیں تو وہ روحانیت کے ساتھ مل کر دین کہلاتے ہیں۔لیکن جب وہی افعال بغیررُوحانیت سے اشتراک کے تمدّن کے طور پر کئے جائیں تو ایسے انسان کے متعلق کہتے ہیں۔بڑا با اخلاق ہے۔مَیں پہلے اخلاق کو لیتا ہوں پھر روحانیت کو بیان کرونگا۔لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اخلاق اور روحانیت میں فرق صرف یہی ہے کہ ہماری طاقتوں کا ظہور انسانوں کے ساتھ معاملات میں اخلاق کہلاتا ہے اور انہی طاقتوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق ظہور روحانیت کہلاتا ہے۔اسلئے جہاں مَیں اخلاق بیان کرونگا وہاں ساتھ ہی روحانیت کا بھی پتہ لگ جائے گا۔اور جہاں فرق بتانے کی