انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 167

۱۶۷ لے۔کیا کبھی بارُود خود قائم رہ کر کسی چیز کو اُڑا سکتا ہے؟ یا ڈائنا میٹ اپنے آپکو تباہ کئے بغیر کوئی تغیر پیدا کر سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تمہیں اسی طرح کرنا پڑیگا۔اگر تم تھوڑے سے ہو کر دُنیا کو فتح کرنا چاہتے ہو تو ڈائنا میٹ بنکر ہی فتح کر سکتے ہو۔کیونکہ تھوڑاسا ڈائنامیٹ ہی ہوتا ہے جو ایک بڑے خطّہ کو تہ و بالا کر دیتا ہے۔اور اسکے یہ معنے ہیں کہ ہم دُنیا کو اُڑانے سے پہلے آپ اُڑ جائیں گے۔کیا یہ حالت تم میں پیدا ہو گئی ہے اور اس درجہ تک تم پہنچ گئے ہو؟ اگر نہیں تو ساری دُنیا کو فتح کرنیکا ارادہ رکھتے ہوئے کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم پر بہت بوجھ پڑ گیا تم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اس نے اس مُدعا اور مقصد کے پورا کرنے میں کس قدر سعی اور کوشش کی ہے جو ہر ایک احمدی کا اوّلین فرض ہے اور جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔اگر اس بات کو مد نظر رکھ کر تم اس بوجھ کو دیکھو گے جسے تم نے اس وقت تک اُٹھایا ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔مَیں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے سارے کے سارے ایسے ہیں جنہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کس مقصد اور مُدعا کر لیکر کھڑے ہوئے ہیں اور اس کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔بڑے بڑے مخلص بھی ہیں۔ایک دوست جن کی تنخواہ ۶۰ روپے ماہوار ہے انہوں نے اپنی آمدنی کے ۳ ۱ حصّہ کی وصیّت کی ہوئی ہے۔یعنی بیس روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔جب چندہ خاص کی تحریک ہوئی تو اس میں انہوں نے تین ماہ کی تنخواہ دے دی اور اس طرح وہ مقروض ہو گئے۔اس پر انہوں نے خط لکھا کہ کیا مَیں قرضہ ادا ہونے تک ۱۰ ۱ حصّہ آمد کا چندہ میں دے سکتا ہوں۔مگر اس سے ۵-۶ دن بعد انکا خط آگیا کہ مجھے پہلا خط لکھنے پر بہت افسوس ہوا۔مَیں اپنی آمد کا ۳ ۱ حصّہ ہی چندہ میں دیا کرونگا تو ایک حصّہ جماعت کا ایسے مخلصین کا بھی ہے اور یہ بڑا حصّہ ہے مگر مَیں باقیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی ایسے ہی بنیں۔اور ہماری تو یہ حالت ہونی چاہئے کہ ایک قطرہ بھی ہمارے اپنے لئے نہ ہو بلکہ ہمارے لئے وہی رہنا چاہئے جو ہمارا نہیں رہا۔یعنی جان بچانے، ستر ڈھانکنے کے لئے جو خرچ ہو وہ کیا جائے باقی سب کچھ خدا کے لئے سمجھا جائے۔دیکھیں آپ لوگ جماعت میں داخل ہو کر جو وعدہ کرتے ہیں وہ کتنا بڑا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری جان، ہمارا مال، ہماری عزّت، ہماری آبرو، ہمارا آرام، ہماری آسائش، ہماری دولت، ہماری جائداد، غرض کہ ہمارا سب کچھ خدا کا ہوگیا۔یہ بیعت کے معنے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ خدا ہی کا ہے۔مثلاً سو روپیہ تنخواہ ہے تو اس کی نہیں بلکہ خدا