انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 159

انوار العلوم جلد 9 ۱۵۹ منهاج الطالبين میں بہت کم لوگوں کو ملاقات کا موقع دیتا ہوں۔ میں نے پچھلے جلسوں میں سے کسی میں بیان کیا تھا کہ ملاقات ا ت اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلسہ کے موقع پر موقع پر باوجود بہت سا کام ہونے کے میں دوستوں کو ملاقات کا وقت دیتا ہوں کیونکہ جو لوگ اس طرح الگ ملتے ہیں ان میں بعض کی ایک سال، بعض کی دوسرے سال اور بعض کی تیسرے سال واقفیت ہو جاتی ہے۔ اور اب میں اپنی جماعت کے ہزاروں آدمیوں کی پہچان رکھتا اور ا رکھتا اور انہیں پہچان سکتا ہوں۔ ا ہوں۔ اس ملاقات کے علاوہ بھی میں دوستوں کو علیحدہ ملاقات کا موقع دیتا رہتا ہوں۔ لیکن الگ ملنا بھی ضروری ہو سکتا ہے جبکہ خاص طور پر اس کی ضرورت بھی ہو اور کوئی ایسی بات کرنی ہو جو مجلس میں نہ کی جاسکتی ہو۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوست آتے ہیں اور الگ ملنا چاہتے ہیں لیکن جب علیحدہ ملاقات کا موقع دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں مجھے اپنے لئے دُعا کے لئے کہنا تھا حالانکہ یہ بات وہ مجلس میں بھی کہہ سکتے تھے مگر اس کے لئے میرے وقت میں سے پندرہ میں منٹ خرچ کر ا دیتے ہیں۔ میں نے اپنے جو کام پہلے بتائے ہیں ان میں دوستوں سے ملاقات کا وقت بھی ہوتا ہے۔ اور جو دوست کسی ضروری کام کے لئے علیحدہ ملنے کی درخواست کرتے ہیں انہیں میں علیحدہ ملنے کے لئے وقت دیتا ہوں۔ مگر میں نے چونکہ پچھلے تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ عام طور پر علیحدہ ملاقات کا وقت مقرر کر کے ایسی باتیں کہتے ہیں جو عام مجلس میں بھی کی جاسکتی ہیں اس لئے اب جو شخص علیحدہ ملاقات کے لئے کہتا ہے اس کے متعلق میں اپنے سیکرٹری سے کہتا ہوں کہ پوچھ لو کہ آیا ایسا ضروری کام ہے جو علیحدگی میں → ۔ ہی کیا جا سکتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے میں وقت دے دیتا ہوں۔ میں نے اپنے جو کام بتائے ہیں ان احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرا کوئی وقت فار فارغ نہیں ہے۔ دن رات کے ۲۴ گھنٹے مجھے مصروف رہنا پڑتا ہے۔ اب یہ تو میرے لئے ناممکن ہے کہ میں دن رات کے ۴۸ گھنٹے بنالوں۔ پھر میں یہ تو کر سکتا ہوں کہ حوائج ضروریہ مثلاً کھانا، پینا، پیشاب، پاخانہ ، سونا وغیرہ میں تھوڑے سے تھوڑا وقت خرچ کروں مگر میں ان ضرورتوں کو بند نہیں کر سکتا ان حالات میں اگر میں بغیر ضرورت کے علیحدہ وقت ملاقات کے لئے دوں تو اس سے دوسرے کاموں میں حرج واقعہ ہو گا۔ بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کوئی دوست ملنے کے لئے آئے تو میرا ہاتھ پکڑ کر پندرہ پندرہ میں میں منٹ ہیں کہتے جاتے ہیں کہ میرے لئے ضرور دُعا کرنا۔ چونکہ میں ہر بار ان کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ضرور دُعا کروں گا اس لئے کسی کسی وقت کہہ دیتا ہوں ہاں ضرور کروں گا اور پھر خاموش ان کی بات سنتا رہتا ہوں۔ میں اس طریق کو روکنا چاہتا ہوں اور یہ بھی آپ ہی لوگوں کے فائدہ کے لئے تا