انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xviii

میں دخل نہ دیا جائے ۔ وسعت حوصلہ ۔ حوصلہ کے ساتھ دوسروں کو ان کے عقیدہ کے مطابق کام کرنے دیں اور خود اپنے عقیدہ کے مطابق کام کریں۔ حضور نے تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق فرمایا کہ تجارت ایسا شعبہ ہے جس سے مسلمانوں نے سب سے زیادہ تغافل برتا ہے اور تجارتی لحاظ سے وہ ہندوؤں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ تجارت اور صنعت و حرفت میں بھی مسلمانوں کی ترقی کے لئے خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آخر پر حضرت مصلح موعود ۔ عود نے مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو ختم کر کے باہم اتحاد اور یگانگت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ :۔ پھر ایک دفعہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ سب محنت رائیگاں اور سب تدبیریں عبث جائیں گی اگر اس امر کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا گیا کہ ہم باوجود ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اغیار کی نظروں میں مسلمان ہیں۔ اور ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے۔ پس سیاسی میدان میں ہمیں مذہبی فتوؤں کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔ کیونکہ وہ ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔ اسلام ہر گز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی سیاسی ضروریات کے لئے ان لوگوں سے مل کر کام نہیں کر سکتے جن کو تم مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگر رسول کریم میں یہ مشرکوں کے مقابلہ میں یہود سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان کہلانے والے فرقے اسلام کی سیاسی برتری بلکہ کہو کہ سیاسی حفاظت کے لئے اس میں مل کر کام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اس موقعہ پر اتحاد نہ کر سکیں گے تو یقینا اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارا اختلاف اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لئے ہے۔ اپنے نفسوں کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بد بختی سے محفوظ رکھے۔ آمین (۹) جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۵ء کو کارکنان سلسلہ احمدیہ کے ایک اجتماع میں جماعت کے جدید نظام عمل کے بارہ میں حضور نے ایک مفصل تقریر فرمائی جس میں مجلس شوری کے فیصلہ کے مطابق مجلس معتمدین اور صیغہ ہائے نظارت کے باہمی الحاق کا اعلان فرمایا۔ کارکنان کو مخاطب کرتے