انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 141

انوار العلوم جلد 8 ۱۴۱ جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل حد نہیں۔ اور مزدوروں نے بر سراقتدار ہونے کے زمانہ میں ایسے قانون بنائے جو پہلے نہ تھے۔ مگر جب ان کے بعد اُمراء کی پارٹی حکمران ہوئی تو اس نے مزدور پارٹی کے قوانین بدلے نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری اُٹھالی ہے۔ اگر ان پر کوئی اعتراض کرتا ہے تو خود جواب دیتے ہیں۔ پس یہ ذہنی تعاون ہے کہ جب کوئی تجویز پاس ہو جاتی ہے تو سارے لوگ اسے صحیح سمجھنے لگ جاتے ہیں اور اُسے کامیاب بنانے میں امداد دینے لگ جاتے ہیں۔ دو سرا تعاون عملی ہے یعنی جو کام کرنے والے ہوں ان کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹایا جائے۔ یہ کئی طرح ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی دوسرے دفتر کا کام ہوا تو وہ کر دیا۔ اب تو یہ حالت ہے کہ میرے پاس اس قسم کی چٹھیاں آئی ہیں کہ ہم قادیان میں چندہ لے کر گئے مگر کوئی لینے والے نہ تھا اس لئے واپس لے آئے۔ ایسے لوگوں نے کسی سے تو پوچھا ہو گا خواہ وہ یہاں کا دودھ بیچنے والا ہی ہو کہ کہاں چندہ جمع کرایا جائے۔ اس کا بھی فرض تھا کہ اس رنگ میں اس کی مدد کرتا۔ اس تعاون میں اخبار والوں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ یورپ میں جو قومی معاملہ ہو اس میں ساری پارٹیوں کے اخبارات اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ یہی کابل کا واقعہ تھا۔ تمام پارٹیوں کے اخبار زبانی ہمارے آدمیوں سے کہتے تھے کہ بڑا ظلم ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اس کے خلاف لکھنے سے معذور ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کی کابل کے متعلق جو پالیسی ہے اُسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت لیبر پارٹی برسر حکومت تھی جو چاہتی تھی کہ افغانستان کے ساتھ صلح رکھی جائے۔ دوسرے لوگ اگر چہ صلح کے حامی نہ تھے مگر وہ خود کامل کے خلاف کچھ نہ لکھتے تھے۔ تاکہ بر سر اقتدار پارٹی کی پالیسی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ کہتے تھے کہ خبر کے طور پر شائع کر دیں گے اور جرمنی کے اخبارات نے تو اتنا بھی نہ کیا۔ کیونکہ وہ اسے وہاں کی حکومت کی پالیسی کے خلاف سمجھتے تھے۔ مگر ہمارے اخبارات میں یہ بات نہیں۔ ان میں ایسے مضامین تو چھپ جاتے ہیں جن کی کوئی قیمت اور کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ مگر ایسے ضروری مضامین جن سے جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہو اس لئے نہیں چھتے کہ وہ الفضل یا فاروق یا الحکم میں چھپ گئے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے کون سے اخبارات ہیں جن میں ایک جیسی باتیں نہیں چھپتیں۔ پریس میں اس قدر تعاون ہونا چاہئے کہ جو بات لیں اس پر شور مچا دیں۔ آریوں کے اخبارات کو میں نے دیکھا ہے۔ اس قدر شور مچاتے ہیں کہ گورنمنٹ بھی مجبور ہو جاتی ہے۔ غرض دو قسم کا تعاون ہے۔ اور وہ یہ کہ نہ بد خبر پھیلانا اور نہ پھیلنے دینا۔ مگر یہاں کثرت ایسے لوگوں کی ہے جو یا تو بد خبر پھیلاتے ہیں یا بد خبر سن کر خاموش چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کا مقابلہ نہیں کرتے۔