انوارالعلوم (جلد 9) — Page 140
۱۴۰ وہ کارکن جس کے سپرد کوئی کام ہو اگر تمہارے کسی مشورہ یا امداد سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس سے تمہیں بد دل نہ ہونا چاہئے۔اگر وہ تمہارے مشورہ کو غلط اور غیر مفید سمجھ کر ۹۹ دفعہ بھی رد کرتا ہے تو بھی تمهارا حق نہیں کہ سوویں دفعہ اسے مشورہ دینے کے لئے نہ جاؤ۔اس نے اگر ۹۹ دفعہ تمہارا مشورہ رد کیا ہے تو اپناوہ حق استعمال کیا ہے جو اس کام کے متعلق اسے دیا گیا ہے۔تمہارا فرض یہی ہے کہ ہر ضرورت کے موقع پر مشورہ دیتے جاؤ۔مگر میں یہ دیکھتا ہوں 99 فیصدی لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ کسی کو مشورہ دیتے ہیں اور وہ نہیں جاتا تو آئندہ مشورہ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔یا کسی کام کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اگر ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔مگر یہ نتیجہ ہوتا ہے ان کے اس خیال کا کہ وہ دوسرے پر حکومت کرنا چاہتے ہیں نہ کہ تعاون۔اگر ان کی غرض تعاون ہوتی تو خواہ سو دفعہ بھی ان کا مشورہ رد کیا جاتا پھر بھی وہ پیش کرتے۔پس آپ لوگوں کو میں ایک نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ آپس میں تعاون سے کام کریں۔اور اس طرح مشورہ پیش کریں کہ خواہ ہزار دفعہ بھی رد کیا جائے پھر بھی آپ اپنا فرض ادا کرنے سے باز نہ رہیں۔اور ہر ضرورت کے وقت خدمات پیش کرتے رہیں۔خواہ ہزار دفعہ ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تعاون دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ذہنی یعنی جو کام کرنے والا ہے اس کے رستے میں سہولتیں پیدا کی جائیں۔ہمارے ہاں یہ تعاون بہت کم ہے اور یورپ میں بہت زیادہ ہے۔وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک بات غلط ہے۔مگر کہتے ہیں جو شخص کر رہا ہے وہ چونکہ اپنے فن کا ماہر ہے اس لئے یہی سمجھو کہ ٹھیک کرتا ہے۔اور دوسروں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم بھی اس کے متعلق یہی سمجھو۔مگر یہاں ذہنی تعاون بالکل ترک کر دیا جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ لوگوں کے جذبات کسی کام کرنے والے کی تائید میں پیدا کئے جائیں اس کے خلاف باتیں مشہور کی جاتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے کام میں خرابی نہ ہو تو بھی عام لوگوں کو خرابی نظر آنے لگتی ہے اور کام کرنے والا لوگوں کے اعتراضات بڑھ جانے کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے اور اس کے گھرانے سے کام خراب ہو جاتا ہے۔اس پر اعتراض کرنے والے کہہ دیتے ہیں ہم نہ کہتے تھے فلاں شخص کام خراب کر دے گا اب دیکھ لو ایسا ہی ہوا ہے۔کسی کام اور طریق کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو فیصلہ ہو اس کی پوری پوری مطابقت کی جائے تاوقتیکہ وہی فیصلہ کرنے والی جماعت یہ فیصلہ نہ کرے کہ ہم سے یہ غلطی ہو گئی تھی جس کی اصلاح کی جاتی ہے۔دیکھو ولایت میں مزدور پارٹی کے خلاف امراء کو اس قدر غصہ تھا کہ جس کی