انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 138

۱۳۸ کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اور پھر قادیان کے دوسرے لوگوں کو کہ اگر تم لوگ دین کی خدمت میں نمونہ نہ بنو تو باہر کے لوگ کس طرح بے نظیر قربانی کر سکتے ہیں۔اب جہاں قواعد میں اصلاح کی گئی ہے وہاں میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اپنے قلوب میں اور اپنے اعمال میں بھی اصلاح کریں تاکہ وہ کامیابی نصیب ہو جس کا وعدہ خدا تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ذریعہ دے رکھا ہے۔کامیابی کے لئے سب سے پہلی چیز اطاعت ہے۔ولایت میں فوج کے انتظام کا میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا۔فوج کا دستہ کہیں جا رہا تھا۔ایک افسر نے ایک سپاہی سے کہا۔تم ٹھیک نہیں چل رہے ٹھیک قطار میں چلو۔سپاہی دراصل ٹھیک چل رہا تھا۔اس نے کہا میں ٹھیک چل رہا ہوں۔اگرچہ افسر کی غلطی تھی لیکن اس نے کہا آگے سے جواب دینے کی جو گستاخی تم نے کی ہے اس کی وجہ سے تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔یہ کہہ کر اسے حراست میں دے دیا گیا اسی طرح کے کئی واقعات ہوتے ہیں۔گذشتہ لڑائی کے ایام میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جو سِگنل کمپنی تیار کی گئی تھی اور جس میں مارے شمشاد علی صاحب بھی تھے۔ان کے علاوہ اور بھی پانچ چھ احمدی تھے۔انہوں نے سنایا ایک احمدی کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ تار کے کھمبے لگوادو۔اس کے متعلق ایک افسرنے کر نل کے پاس رپورٹ کی کہ اس نے سستی کی ہے۔اس پر شمشاد علی صاحب کو مقرر کیا گیا کہ تحقیقات کریں اس نے سستی کی ہے یا نہیں؟ ان کی تحقیقات پر ثابت ہوا کہ اس نے سستی نہیں کی۔مگر چونکہ اُس نے یہ لکھا تھا کہ افسرنے میرے خلاف غلط لکھا ہے اس لئے اس وجہ سے اسے سزا دی گئی۔غرض فوج میں اطاعت کا ایسا سبق سکھایا جاتا ہے کہ انسان مشین کی طرح بن جاتے ہیں۔انہیں اپنے فرائض بجالانے کی ایسی عادت ہو جاتی ہے جو باتیں دوسرے لوگ برداشت نہیں کر سکتے وہ کر لیتے ہیں۔امریکہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ سِول وار میں ایک نوجوان کو پہرہ پر مقرر کیا گیا جو اپنی ماں کا اکلوتابیٹا تھا۔افسراس کا پہرہ بدلنا بھول گئے اور تیسرے دن وہ تھکاوٹ سے بالکل چُور ہو گیا اور ایک کھمبے سے ٹیک کا کر کھڑا ہو گیا اس پر اسے اُونگھ آگئی۔اتفاق سے ایک معائنہ کرنے والا افسراس وقت آ گیا اور اس حالت میں اُسے دیکھ لیا۔اس پر وہ پکڑا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔اس کی ماں نے رحم کی درخواست کی لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔لکھا ہے فیصلہ دیتے وقت افسر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔اور اس نے لکھا کو گو یہ ماں کا اکلوتا بیٹا ہے اور تھکاوٹ سے سخت چُور ہو کر اس سے حرکت ہوئی مگر سوائے اس کے کوئی سزا نہیں