انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xvii

۹ کیونکہ اگر ایک جماعت کے پیرو جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں ان کو دوسرے فرقہ کے لوگ خواہ غیر مسلم ہی سمجھیں لیکن سیاست میں ہندو اور سکھ جب ان سے معاملہ کریں گے تو ان سے ایک ہی معاملہ کریں گے اور جو کارروائی وہ ایک قوم کے خلاف کریں گے وہی دوسری قوم کے خلاف بھی کریں گے۔ پس سیاست ان کے مفاد ایک ہیں اور مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہ سمجھا تو دوسرے ایک ایک کر کے ان کو کھا جائیں گے اور ان کو اس وقت ہوش آئے گی جب ہوش آنے کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس لئے حضور نے تمام مسلمان فرقوں کے سامنے یہ زریں اصول پیش کیا کہ سیاسی معاملات میں مسلمان مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ سیاسی لحاظ سے اگر آپ کسی قوم کو الگ کر دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے وہ دوسری قوموں کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس کے بعد اسلام کی ترقی اور ترویج اور اس کے سیاسی استحکام کے لئے بعض تجاویز دیں اور فرمایا کہ اسلام کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ تمام ملک ہند میں اسلام کی ترویج کے لئے تبلیغی نظام مقرر کیا جائے اور تبلیغی انجمنوں کے باہم اتحاد کی کوئی راہ نکالی جائے۔ کیونکہ اسلام کی زندگی تبلیغ پر ہی موقوف ہے۔ اور اس کے لئے مکمل نظام وضع کرنا ضروری ہے۔ نیز مسلمانوں کی صنعتی اور تعلیمی میدان میں ترقی کے لئے باقاعدہ صیغہ جات قائم کئے جائیں۔ ہر صیغہ کا ایک مطمع نظر ہو اور سال کے آخر پر بتایا جائے کہ مطمع نظر کو کس حد تک پورا کیا گیا ہے۔ نیز اس وقت فوری طور پر ایک ایسی کمیٹی کا قیام بھی ضروری ہے جو اس امر کا جائزہ لے کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے اثر سے کس طرح آزاد کروایا جا سکتا ہے۔ اور کون کون سے شعبہ ہائے زندگی ایسے ہیں جن میں ماہر مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے پھر وہ کمیٹی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرے۔ اسی طرح حضرت مصلح موعود نے مسلم بنک کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور فرمایا کہ اگر بلا سود بنک کی صورت نکل سکے جو کہ نکل سکتی ہے تو ہماری جماعت بھی اس میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے اور آپ نے بیت المال اور مسلم چیمبر آف کامرس کے قیام کی بھی تجویز دی۔ نیز فوجداری مقدمات کے علاوہ مسلمانوں کے دیگر متنازعات کو عدالتوں میں لے جانے کی بجائے باہم مل کر تصفیہ کے لئے بھی پنچائتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ قیام امن کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی معاملات