انوارالعلوم (جلد 9) — Page 124
قرار دے ان کے لئے ہوشیار طالب علموں کو وظیفہ دے کر بیرونی ممالک میں تعلیم دلوائی جائے اور ان کی واپسی پر مسلم سرمایہ داران کے ذریعہ سے ان صنعتوں کے کارخانے جاری کئے جاویں۔سیاسی اتحاد کے بغیر کامیابی محال ہے : میں جس قدر کہ ایک مختصرپمفلٹ میں لکھا جاسکا ہے لکھ چکا ہوں۔تفاصیل پر بحث اس وقت کر سکتا ہوں جبکہ ان کی ضرورت محسوس ہو۔اور اس لئے پھر ایک دفعہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ سب محنت رائیگاں اور سب تدابیر عبث جائیں گی اگر اس امر کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا گیا کہ ہم باوجود ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اغیار کی نظروں میں مسلمان ہیں اور ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے۔پس سیاسی میدان میں ہمیں مذہبی فتوؤں کو نظرانداز کر دینا چاہئے کیونکہ وہ ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی سیاسی ضروریات کے لئے ان لوگوں سے مل کر کام نہیں کر سکتے جن کو تم مسلمان نہیں سمجھتے۔اگر رسول کریم ﷺ مشرکوں کے مقابلہ میں یہود سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان کہلانے والے فرقے اسلام کی سیاسی برتری بلکہ یہ کہو کہ سیاسی حفاظت کے لئے اس میں مل کر کام نہ کر سکیں۔اگر ہم ایسے موقع پر اتحاد نہ کر سکیں گے تو یقینا اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارا اختلاف اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لئے ہے اپنے نفسوں کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بدبختی سے محفوظ رکھے۔آمین خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان۔ضلع گورداسپور ۱: ال عمران :۱۰۵ ۲: الانعام :۱۳۶ ۳: الكفرون :۷