انوارالعلوم (جلد 9) — Page 123
۱۲۳ ہیں۔اور کس کس قسم کی تجارت سے مسلمان بالکل غافل ہیں اور پھر ان نقائص کا ازالہ شریعت کے احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔مسلم چیمبر آف کامرس: یہ بھی ضروری ہے کہ ایک مسلم چیمبر آف کامرس بنائی جائے تاکہ مسلمان تاجروں میں اپنی قوی کمزوری کا إحساس ہو۔اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کا معاملہ کرنے کے عادی ہوں۔اسی چیمبر سے نظام مرکزی بھی نہایت قیمتی مدد اپنے اغراض کے پورا کرنے میں لے سکتا ہے۔صنعت و حرفت: صنعت و حرفت کا میدان میرے نزدیک تجارت سے بھی اہم ہے کیونکہ (1) اس میں نفع کا زیادہ موقع ہے۔اور (۲) اس میں دوسرے ملکوں کی دولت کھینچی جاسکتی ہے۔اور (۳) ملک کے لاکھوں آدمیوں کے گزارہ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔(۴) تجارت کا دارومدار اس پر ہے۔جو قوم اس پر اچھی طرح قابو پالے وہ تجارت کو اپنے ہاتھ میں آسانی سے لے سکتی ہے۔اس کے ذریعہ سے ملک اقتصادی اور سیاسی غلامی سے محفوظ ہو جاتا ہے۔مسلمانوں کے لئے اس میدان میں بہت موقع ہے۔اول تو اس وجہ سے کہ جو ملکی قدیم صنعت و حرفت ہے اس کا بیشتر حصہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔گو وہ آج کل مردہ ہے لیکن اگر اس کو ابھارا جائے تو مسلمانوں کے پاس ایک بیج موجود ہے۔دوسرے اس وجہ سے وسیع پیمانے پر صنعت و حرفت کا تجربہ ابھی ہمارے ملک میں شروع نہیں ہوا۔یہ صیغہ ابھی ابتدائی تجارت کی حالت میں ہے اور بہت ہی قریب زمانہ سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔پس مسلمانوں کے لئے اس میدان کا دروازہ بند نہیں اور وہ آسانی سے اپنا حصہ بلکہ اپنے حصے سے بڑھ کر اس شعبہ عمل میں حاصل کر سکتے ہیں۔پس میرے نزدیک اس امر کی طرف فوری توجہ ہونی چاہئے۔اور اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ (1) ایک بورڈ آف انڈسٹریزمقرر کیا جائے جس کا کام یہ ہو کہ وہ ان صنعتوں کی ایک فہرست بنائے جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہو رہی ہیں اور ان کی جو آسانی سے رائج ہو سکتی ہیں اور انکی جن کی ملک کی اقتصادی آزادی کے لئے ضرورت ہے۔جو رائج ہیں ان کو تو ایک نظام میں لا کر ترقی دینے کی کوشش کی جائے۔اور جو ملک میں رائے ہیں مگر مسلمان ان سے غافل ہیں ان کی طرف مسلمان سرمایہ داروں کو توجہ دلا کر ان کو جاری کروایا جائے۔اور جو ملک میں رائج ہی نہیں مگر ان کی ضرورت ہے ان کے لئے تجربہ کار آدمیوں کا ایک وفد بیرونی ممالک میں بھیجا جائے جو ان کے متعلق تمام ضروری معلومات بہم پہنچائے۔اور جن جن صنعتوں کا اجراء وہ ممکن