انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 107

انوار العلوم جلد 9 ١٠٧ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر سوائے اس صورت کے کہ ان کی عقل ماری گئی ہو۔ اگر قلیل التعداد جماعتوں کو حقیر سمجھ کر اپنے سے دور پھینکا گیا محض اس لئے کہ ہمارا مذہبی اختلاف ہے یا اس وجہ سے ہی کہ ہم ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں تو ہندوستان میں دوسری ایسی عقلمند قومیں موجود ہیں جو ان دور پھینکے پھینکے جانے والوں سے سیاسی سمجھوتے کر کے اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانے کی خواہش مند ہیں۔ پس ہر ایک چیز کو اس کے مقام پر رہنے دو۔ مذہبی کفر و اسلام کو مذہب کی بحثوں کے موقعوں کے لئے اور سیاسی کفر و اسلام کو سیاسی حل و عقد کے موقعوں کے لئے۔ کانفرنس کے متعلق مشورہ اس کے بعد میں اپنے خیالات ان سوالات کے متعلق جن پر کانفرنس میں غور کیا جائے گا بتاتا ہوں۔ مگر یہ بھی مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ایسے اہم امور ایک کانفرنس میں کبھی ٹے، نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک ہی وقت میں علم کا حاصل کرنا اور اس کا نتیجہ بھی نکال لینا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ پس چاہئے کہ اس کانفرنس میں صرف تبادلہ خیال ہو اور اس کے دو یا تین ماہ کے بعد پھر لوگ اکٹھے ہوں اور اس کانفرنس میں کسی خاص نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس عرصہ میں لوگ تمام تجاویز پر خوب غور و فکر کرلیں گے اور ان کی رائے زیادہ مضبوط ہو گی۔ میں سے سب سے پہلا تبلیغی نظام کا سوال جو سوالات کا نفرنس میں پیش ہوں گے ان میں کے سوال جو درجہ کے لحاظ سے بھی پہلا ہے یہ ہے کہ تمام ملک ہند- لئے ایک تبلیغی نظام مقرر کیا جائے اور تبلیغی انجمنوں کے اندر اتحاد پیدا کرتے ہوئے تقسیم کار کی صورت نکالی جائے۔ میرے نزدیک یہ سوال اسلام کے لئے ایسا ہی اہم ہے جیسا کہ انسان کے لئے زندگی اور موت کا سوال۔ اسلام تبلیغ کے ذریعہ سے ہی زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی مبلغوں کے متعلق فرماتا ہے کہ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ وہی لوگ کامیاب ہوں گے یعنی مسلمانوں کی کامیابی ہمیشہ تبلیغ سے وابستہ رہے گی۔ اسلام میں قوت جاذبہ تاریخ کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں جو قوت جذب کرنے کی موجود ہے وہ اور کسی مذہب میں نہیں۔ نہ ہندوؤں میں نہ سکھوں میں نہ مسیحیوں میں وہ اخوت اور مساوات ہے جو اسلام میں ہے اس لئے اسلام کی تبلیغ میں جو آسانیاں ہیں وہ دوسری قوموں کو حاصل نہیں ہیں۔ خصوصاً جبکہ اس امر کو مد نظر رکھا