انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 92

۹۲ غیراحمدیوں کی فتح کی حقیقت میں نے سنا ہے ایک دیوبندی مولوی صاحب نے کہا اب ہمیں فتح حاصل ہو گئی۔لیکن سمجھ میں نہیں آتا وہ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ان کو فتح حاصل ہو گئی اور احمدیوں کو شکست۔کیاجو جماعت روز بروز ترقی کر رہی ہو وہ کست خوردہ ہوتی ہے۔انہوں نے ہزاروں کوششیں کیں، ہر طرح روکیں ڈالیں اور مخالفت کی مگر آج تک نتیجہ یہی نکلا کہ وہ روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں اور ہم ترقی کر رہے ہیں۔ہماری جماعت کو جو لوگ بڑھا رہے ہیں آخر اِنہیں میں سے نکل نکل کر آرہے ہیں۔میرے دیکھنے کی بات ہے کہ اس مسجد کے پرانے صحن میں جو بہت چھوٹا تھا ہمارا سالانہ جلسہ ہوتا تھا جس میں باہر کے لوگ شامل ہوتے تھے اور اتنا صحن بھی کافی سے زیادہ ہوتا تھا۔مگر آج یہ حالت ہے کہ معمولی تقریبوں پر بھی اُس وقت کے سالانہ جلسہ سے زیادہ لوگ صرف یہاں کے جمع ہو جاتے ہیں۔جمعہ کے روز یہ تمام صحن بھرجاتا ہے جو پہلے کی نسبت بہت وسیع کیا گیا ہے۔ایسی حالت میں حیرت انگیز بات نہیں کہ آج وہ کہتے ہیں " قادیان فتح ہو گیا ‘‘اور یہ عنوان رکھ کر اشتہار شائع کرتے ہیں کہ ’’مرزائیت کا خاتمہ "۔’’مرزائیت کا جنازہ بے گوروکفن ‘‘گویا ان کی طرف سے یہ اشتہار شائع ہونے کی دیر تھی کہ احمدیت کا خاتمہ ہو گیا لیکن میں پوچھتا ہوں بقول ان کے اگر مرزائیت کا خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر ان کے یہ کہنے کا کیا مطلب کہ تمام مرزائی جماعتیں مل کر تجہیز و تکفین کریں۔وہ مرزائی جماعتیں کہاں سے آگئیں جنہیں تجہیز و تکفین کے لئے کہا جاتا ہے۔یہ مولوی صاحبان مرزائیت کسی الگ وجود کو تو قرار نہیں دیتے۔احمدیوں کو ہی مرزائیت کہتے ہیں۔پھر جب ان کےنزدیک مرزائیت یعنی احمدیوں کا خاتمہ ہو گیا تو پھر تجہیز و تکفین کے لئے کسے بلاتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ وہ بھی خوب جانتے ہیں کس کا خاتمہ ہو رہا ہے اور کس کی تجہیز و تکفین کی ضرورت ہے۔دراصل ان کے اپنے گھروں میں ماتم پڑا ہوا ہے۔غیر احمدیوں مولویوں کی حالت ان کی مثال تو ان چوہوں کی سی ہے جنہوں نے بلی کے مارنے کے لئے مشورہ کیا تھا۔ان میں سے ایک نے کہاہماری اتنی بڑی تعداد ہے اگر ہم جرات سے کام لیں تو بلی کی کیا طاقت ہمارا مقابلہ کر سکے۔یہ آئے دن ہمیں مارتی رہتی ہے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔اس پر دس پندرہ چوہوں نے کہا۔ہم اس کی ایک ٹانگ پکڑیں گے۔دس پندرہ نے کہا ہم دوسری ٹانگ پکڑ لیں گے۔غرض اس طرح سب نے بلی کے تمام اعضاء تقسیم کے لئے اور بہت خوش ہو رہے تھے کہ اب ہمارے غلبہ پا لینے میں کی