انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xii

اور گھر کے ہر ممبر سے اس کی حیثیت اور اس کے علم کے مطابق کام لے کوئی شخص فارغ نہ رہے۔ تاکہ دین کو کو طاقت حاصل ہو۔ اور اس ہو۔ اور اسلام دو دوسرے دینوں پر غالب آ جائے۔ اور وہ کیسی خوش گھڑی ہو گی جب ایسا ہو گا۔“ (۴) حکومت کابل کی ظالمانہ کارروائیوں پر صبر سے کام لو کابل افغانستان میں اوائل ۱۹۲۵ء میں دو احمدی (مولوی نعمت اللہ صاحب اور مولوی عبدالرحمن صاحب) شہید کر دیئے گئے اس سلسلہ میں قادیان میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی اس میں حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا ! وو یہ بات متواتر تجربات سے ثابت ہو چکی ہے کہ ظالم کے ظلم کا وبال آخر ظالم پر ہی پڑتا ہے آج تک کوئی ایک نظیر ایسی دنیا میں نہیں ملتی کہ کوئی ظالم ظلم کر کے پھر کامیاب ہو گیا ہو ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔" نیز فرمایا ! یہ زمانہ نہیں رہے گا امیر بھی مٹ جائے گا اور اس کے معاون و مدد گار بھی نہیں رہیں گے لیکن جس عقیدہ کی بناء پر انہوں نے ظلم کئے وہ عقیدہ دنیا میں رہے گا۔" خطاب کے آخر میں احباب جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ۔ میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانہ میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو قوت اور طاقت کے وقت ظاہر ہوں۔ اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری حقیر خدمات کے بدلہ میں حکومت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں۔ وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں۔"