انوارالعلوم (جلد 9) — Page 77
انوار العلوم جلد 9 ८८ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز مذکورہ بالا واقعات سے ظاہر ہے کہ سنی حلقہ میں اہل حجاز اور روہابیوں ں کے تعلقات وہابیوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور چونکہ عرب کا پیشتر حصہ اب تک سُنی ہی ہے اس لئے زیادہ حصہ عربوں کا نجدیوں کے مخالف ہے۔ چونکہ وہابی لوگ ہمیشہ سے سخت گیر رہے اور جبراً اپنے مسائل پر عمل کرواتے ہیں اس لئے کسی کو یہ طاقت تو نہیں کہ ان کے ماتحت رہ کر ان کی مخالفت کرے مگر اہل مکہ اور سب اہل حجاز کے دل کبھی ان کی طرف مائل نہیں ہو سکتے کیونکہ اہل مکہ اور ارد گرد کے قبائل کے خون اور پوست جن رسومات کی آمد سے بنے ہوئے ہیں وہابی اس کے مخالف ہیں۔ اگر وہابیوں کی حکومت کچھ عرصہ تک رہے تو اہل مکہ کا بیشتر حصہ بھو کا مرنے لگے۔ پس حجاز کی نسبت یہ امید کرنا کہ وہ دل سے وہابیوں کا ساتھ دے نا ممکنات کی امید کرنا ہے۔ اہل مدینہ کا بھی وہی حال ہے جو اہل مکہ کا۔ ان کے گوشت پوست میں بھی حُبتِ رسول بھری ہوتی ہے وہ کیسے ہی مجرم ہوں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کا ادب ان کے رگ و ریشہ میں پُر ہے۔ وہ مر جاویں گے مگر کبھی منظور نہ کریں گے کہ آپ کا مزار معمولی صورت میں رکھا جاوے۔ اوے خواہ وہ تلوار کے ڈر سے سر جھکا دیں مگر وہ کبھی اس طریق کو دل سے قبول نہ کریں گے ۔ فلسطین کے عربوں کا بھی یہی حال ہے ۔ وہ بھی مجاور ہیں ر مقابر کے محافظ اور ان کی ہمدردی وہابیوں سے کبھی نہیں ہو سکتی۔ اہل شام وہابیوں کے سخت مخالف ہیں اور شریف حسین اور اس کے خاندان کے دلدادہ۔ چونکہ وہ اور فلسطین کے باشندے فرانس کی حفاظت میں ہیں وہابیوں کا ان پر کوئی زور نہیں اور اس وجہ سے ان کا اپنے حالات کو ظاہر میں بدلنا بھی بعید از قیاس ہے۔ عراق کے لوگ تو مشہور مجاور ہیں ۔ عراق کا گاؤں گاؤں زیارتوں سے بھرا ہوا ہے اس کے حاکم بھی شریف فیصل ، شریف حسین کے لڑکے ہیں اس سے بھی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کبھی وہابیوں کی تائید کرے۔ یمنی لوگ شریف حسین کے مخالف ہیں گوند ہبا وہابیوں کے مخالف ہیں مگر سیا ستا کوئی تعجب نہیں کہ ابن سعود کا ساتھ دیں مگر ان میں بھی دو ٹکڑے ہیں ایک ٹکڑا اگر ابن سعود کے ساتھ ہو گا تو دوسرا ضرور ان کی مخالفت کرے اور گا۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بظاہر حال معلوم ہوتا موجودہ جنگ کا سیاسی اثر عرب پر ہے کہ (1) اگر ابن سعود شریف حسین کو شکست بھی دے دیں تو حجاز پر دیر تک ان کا قابض رہنا مشکل ہو گا