انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 72

انوارالعلوم جلد 9 ۷۲ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز (۴) جب انگریزی مدد بند ہوئی تو انہوں نے مالیہ کو پورا کرنے کے لئے حاجیوں سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرنے شروع کئے جس سے بے اطمینانی اور بڑھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ اہل مکہ نہ اہل بادیہ اور نہ دوسرے ملکوں کو ان سے ہمدردی رہی۔ اگر وہ اخراجات کم رکھتے اور بدؤوں کو فوجی کام میں مشغول رکھتے اور ان کی مالی امداد کرتے رہتے اور آخری سالوں میں حاجیوں کو تکلیف نہ دیتے بلکہ آمد کے بڑھانے کے اور ذرائع تلاش کرتے تو ان کی طاقت اس قدر کمزور نہ ہوتی۔ خلاصہ یہ کہ جب جنگ شروع ہوئی تو اپنے لوگ بے دلی سے کام کرتے تھے۔ دشمن تجربہ کار تھا۔ بیرونی مدد تھی نہیں ، ان کی فوج کو شکست پر شکست ہونے لگی اور آخر طائف بھی امیر نجد نے لے لیا۔ جب مکہ پر چڑھائی ہوئی تو شریف حسین جن کو یہ ڈر تھا کہ شاید شہر کے لوگ بھی ان کے خلاف کھڑے ہو جاویں اور ان کے لئے بھاگنے کا بھی رستہ نہ رہے خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ اور ان کے بڑے لڑکے شریف علی نے ان کی جگہ عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔ شریف علی چونکہ فوجی امور کا تجربہ اپنے والد سے بہت زیادہ رکھتے تھے انہوں نے فوراً فوج کو ترتیب دے کر جدہ کو اپنا صدر مقام قائم کیا۔ اور بجائے کھلے میدان میں میں جنگ کرنے کے ساحل سمندر کے پاس کے شہروں میں محصور ہو گئے۔ اور اس طرح ایک سال کے قریب سے وہ اپنی حفاظت کرتے چلے آتے ہیں۔ یہ تو فوجی حالات ہیں ۔ اب میں اس کشمکش کے جو سیاسی یا تمدنی یا علمی اثرات عرب پر پڑ رہے ہیں یا پڑ سکتے ہیں ان کو بیان کرتا ہوں ۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں ان اثرات کو بیان کروں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امیر ابن سعود کے خاندان کے کچھ تاریخی حالات بھی بیان کروں کیونکہ ان کے بغیر اس حرکت کی حقیقی اہمیت سمجھ میں نہیں آسکتی ۱۱۱۵ھ مطابق ۱۶۹۱ء کو ایک بچہ نجد کے شہر خاندان امیر ابن سعود کے تاریخی حالات عیانہ میں پیدا ہوا۔ جس کا نام محمد رکھا گیا۔ خدا تعالیٰ نے اس بچہ کی قسمت میں عرب کے اندر سینکڑوں سال کی موت کے بعد ہیجان پیدا کرنے کا کام مقرر فرمایا تھا۔ یہ زمانہ وہ تھا کہ اسلام پر شرک کی گھٹائیں چھا رہی تھیں اور رسوم اور بدعات کا کوئی ٹھکانا نہ رہا تھا۔ خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑک رہی تھی اور تمام اسلامی ممالک میں محبت سے پر دل، فکر و اندوہ کا شکار ہو رہے تھے تب خدا تعالیٰ کی غیرت نے مختلف ممالک میں مختلف لوگ مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے پیدا کئے ۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ صاحب پیدا ہوئے ۔ عرب میں خدا تعالیٰ نے محمد بن عبد الوہاب کو چنا۔ آپ اپنی جوانی کی عمر میں ہی علم کے شوق اسلامی