انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 70

۷۰ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ صلی علی رسول الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھو الناصر حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز (تحریر فر مورو جون ۱۹۲۵ء) (۳) شریف مکہ اور انگریزوں کے تعلقات اس عرصہ میں بعض نئے امور پیدا ہونے شروع ہوئے۔انگریزی نمائندہ مصرنے شریف مکہ سے وعدہ کیا تھا کہ عرب کو آزاد ہونے کے بعد ایک حکومت بنا دیا جائے گا۔وہ اس وعدہ کے پورا کرنے پر زور دیتے تھے۔اور ہر عرب تین طاقتوں کے اثر کے نیچے تقسیم ہو چکا تھا۔شام پر فرانس کا قبضہ تھا (اصلی عرب میں شام وغیرہ شامل نہیں لیکن موجودہ زمانہ میں چونکہ عراق فلسطین اور شام میں عرب ہی زیادہ تر آباد ہیں اور بولی بھی عربی ہے۔اس لئے اس سب علاقہ کو عرب ہی کہا جاتا ہے )عراق اور فلسطین انگریزوں کے تصرف کے نیچے تھے۔نجد ایک آزاد امیرابن سعود کے ماتحت تھا۔اگر انگریز چاہتے بھی تو ایسا نہ کر سکتے تھے۔شریف کو غصہ تھا کہ مجھے سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔انگریزوں کو شکوہ تھا کہ جب تم اپنے علاقہ کے سنبھالنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو سارے عرب کو اپنے ماتحت لانے کے لئے کس طرح خواہشمند ہو۔شریف مکہ کو بھی انگریزوں کی طرف سے ایک معقول مدد ملتی تھی۔اگر چاہتے تھے کہ وہ اس مدد کے بدلے میں انگریزوں سے اور بھی رعایت کریں۔ادھرعالم اسلامی کا یہ حال تھا کہ وہ شریف مکہ کے سختخلاف ہو رہا تھا کہ یہ انگریزوں کی طرف کیوں مائل ہیں۔شریف نے جب دیکھا کہ ادھر انگریزان کی اس خواہش کو پورا کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ عرب کو ایک حکومت کر دیا جائے بلکہ الٹا اس روپیہ کے بدلے جوان کو دیا جاتا ہے بعض ایسے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو ان کی آزادی |