انوارالعلوم (جلد 9) — Page 643
۶۴۳ پیش دستی کا الزام دیتی ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ اتحاد کانفرنس کے آخری فیصلہ سے پہلے یا تو یہ طے ہو جائے کہ تمام مصائب کی ذمہ داری کس قوم پر ہے۔یا پھر یہ طے ہو جانا چاہئے کہ اگر آئندہ کوئی رنجیده واقعہ ہو تو کسی فریق کو گذشتہ واقعات کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ورنہ فطرتاً یہ خیال پیدا ہو گا کہ ذمہ داری سے اظہار کے ڈر سے صلح کی جارہی ہے۔۱۸۔ہر صوبہ میں ایک بورڈ بنایا جائے جس کی شاخیں تمام اضلاع میں ہوں اور اب کبھی کوئی فرقہ وارانہ مخاصمت پیدا ہو تو لوکل بورڈ کے ممبروں کو فورا ً جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش کرنی چاہئے اور جس قوم کی طرف سے ابتداء ثابت ہو اس کے لیڈروں کو اسے مناسب سزا اور مظلوم پارٹی کو ہر ممکن طریق سے مد د دینی چاہئے۔۱۹۔انڈین نیشنل کانگریس صحیح معنوں میں قومی جماعت ہونی چاہئے اور ہر خیال اور عقیدہ کے لوگوں کو اس کا ممبر ہونے کی اجازت ہو اور حلف و فاداری صرف انہیں الفاظ میں لیا جانا چاہئے کہ۔"میں اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ہندوستان کی بہبودی کو نظر رکھوں گا۔“ اس کے سوا ممبری کیلئے کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے تاکہ ہر خیال اور عقیدہ کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔بے شک کثیر التعداد جماعت کو کانگریس کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہئے۔مگر جیسا کہ برٹش پارلیمنٹ میں دستور ہے مخالف پارٹیوں کو اپنے خیال کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ہمارے خیال میں صرف یہی طریقہ ہے جس سے کہ ہندوستانی متحد ہو سکتے ہیں۔۲۰- ہر قوم یا فرقہ کو اس کی اپنی تنظیم سے متعلقہ باتوں میں کامل آزادی ہونی چاہئے تاکہ وہ اپنے مفاد کی حفاظت کر سکے۔خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کنگز لے شملہ یکم ستمبر ۱۹۲۷ء (الفضل۱۴ ستمبر ۱۹۲۷ء)