انوارالعلوم (جلد 9) — Page 632
۶۳۲ ہے اس لئے ضروری ہے کہ گورنمنٹ کو مسلمان اپنے منشاء سے اطلاع دیں تاکہ اسے اپنی ذمہ داری کے ادا کرنے میں آسانی ہو اور وہ اہل ملک کی خواہش کے مطابق قانون بنا سکے۔شاید بعض لوگوں کو خیال گزرے کہ اس سے پہلے قانون کی ترمیم کے متعلق جو مطالبہ کیا جا رہا تھا میں اس میں کیوں شریک نہیں ہوا اور کیوں ورتمان کے مقدمہ کے پہلے قانون کے مطابق چلانے پر میں زور دیتا رہا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس مقدمہ کا پہلے قانون کے مطابق ہونا ضروری تھا۔اور اس وقت قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا قومی مصلحت کے خلاف تھا کیونکہ اس میں کیا شک ہے کہ اگر اس مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے ہم قانون کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے اور کوئی قانون پاس ہو جاتا تو اس کا یہ نتیجہ ہوتا کہ معزّز جج صاحبان ور تمان کے مقدمہ کا فیصلہ اس قانون کے ماتحت کر دیتے اور دفعہ ۱۵۳۔الف کے متعلق بحث کرنے کی ضرورت نہ رہتی اور یہ تسلیم کیا جاتا کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کا فیصلہ بالکل صحیح تھا حالانکہ ہم یہ جانتے تھے کہ وہ فیصلہ غلط ہے۔اور اس فیصلہ کے قائم رہنے میں مسلمانوں کی سخت ہتک تھی۔پس اس وقت میں اس مطالبہ کو ناجائز سمجھتا تھا۔اور میرا یہ خیال تھا اور صحیح خیال تھا کہ موجودہ قانون کی تشریح پہلے ہو جانی چاہئے اور یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کنور صاحب کا فیصلہ درست نہ تھا۔اس کے بعد ہمیں قانون کے نقص کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔کیونکہ قانون میں نقص یہ نہیں کہ دفعہ ۱۵۳- الف راجپال اور ورتمان کے ایڈیٹر کو سزا دینے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ کنور صاحب کا خیال تھا بلکہ اس میں اور نقصان ہیں۔پس اب جب قانون کی تشریح ہو گئی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قانون بانی مذہب اور مذہب پر حملہ کرنے والوں کو دو علیحدہ جُرموں کا مرتکب نہیں قرار دیتا تو اب ضروری ہے کہ قانون کی اصلاح کی جائے۔اور ان دوسرے نقصوں کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے یہ قانون اس غرض کو پورا نہیں کر سکتا جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ہم اس قانون کے نقص کے دیر سے شاکی ہیں۔چنانچہ ۱۸۹۷ء میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فِتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے۔لیکن افسوس کہ لارڈ اینکن نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔اس کے بعد سب سے اول ۱۹۱۴ء میں میں نے سرا ڈوایئر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فِتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے گا ملک میں امن قائم نہ ہو گا انہوں نے مجھے اس