انوارالعلوم (جلد 9) — Page 630
۶۳۰ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو اسلام کی اشاعت کے لئے اور اپنی اور اپنے بھائیوں کی اصلاح کے لئے خرچ کرو۔پھر دیکھو کہ کس طرح دنیاپر امن قائم ہو جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا کے چاروں کونوں میں درخشاں نظر آتا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ اپنی پچھلی سستی کا کفارہ کرو اور اپنی غفلتوں کو ترک کرو۔اور تقوی ہمدردی کا نقش اپنے دل میں جماؤ اور ہر اک مسلمان کہلانے والے کی تکلیف کو اپنی تکلیف قرار دو۔اور چُھوت چھات جس کی وجہ سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت تباہ ہو رہی ہے اسے ہندووں کے مقابلہ پر اسوقت تک اختیار کرو جب تک کہ وہ اس کو مسلمانوں کے متعلق نہ چھوڑیں۔اور اپنے اخلاق کی درستی کرو اور درندگی اور وحشت کو چھوڑ کر استقلال اور حکمت سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔اور نفس پرستی کے خیالات کو دلوں سے نکال دو۔اور پھراس دروازہ کی طرف دوڑو جس کے سوا تمہارے لئے کہیں پناہ نہیں۔اور اس بارگاہ میں حاضر ہو جس کے سوا تمہارا کوئی چارہ کار نہیں اور ایک پختہ عہد اور نہ ٹوٹنے والا اقرار کرو کہ آئندہ اپنے مال اور اپنی جان اور اپنی ہر اک چیز کو خدا تعالی کی رضا کے حصول اور اشاعت اسلام کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار رہوگے۔اور اپنی خواہشات اور اپنی اُمنگوں اور اپنے اہل و عیال کے آرام اور اپنے حاضرو مستقبل کے فوائد کو خدا تعالی کی راہ میں فدا کردو گے اور سادہ اور پاک زندگی بسر کرنے کی کوشش کروگے۔کیونکہ وہ شخص جو میدان جنگ کی طرف جانے سے پہلے اَپنے آپ کو تیار نہیں کرتا میدان جنگ میں بھی کچھ نہیں کر سکتا۔پس سادہ زندگی اور اسراف سے پرہیز اور خدمت دین کی عادت ڈال کر اس جہاد عظیم کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو جو اسلام کو پیش آنے والا ہے۔اور یاد رکھو کہ جب تک وقت سے پہلے اس کے لئے تیاری نہیں کرو گے تو خواہ کیسے ہی مخلصانہ ارادے ہوں اور نیک نیتیں ہوں وقت پر کچھ نہ بن سکے گا اور اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کر سکو گے۔پس اے بھائیو! ور تمان کے ایڈیٹر اور مضمون نگار کی قیدپر خوش نہ ہو بلکہ سمجھو کہ ان کی قید ہمارے لئے ایک تازیانہ ہے اور ہمیں بتاتی ہے کہ ہم خود کو تبلیغ اسلام کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے لیکن ایک غیر ہب کی گورنمنٹ نے اپنے قانون کے ذریعہ سے آپ کی عزت کی حفاظت کی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد نہیں لینی چاہئے کیونکہ باوجود پرہیز کے اگر مرض پیدا ہو تو علاج کرنا ہی پڑتا ہے۔لیکن میرا یہ مطلب ہے کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کے