انوارالعلوم (جلد 9) — Page 585
۵۸۵ یہ مشکلات کے بادل پھٹ جائیں گے۔اے بھائیو! آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بغیر عقل اور تدبیر سے کام لینے کے موجودہ مشکلات دُور نہیں ہو سکتیں۔ہو گا وہی جس کے مستحق ہمارے اعمال ہمیں بنائیں گے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انگریزی کانون کی رو سے رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی سخت سے سخت ہتک کرنے والا شخص بھی قابل سزا نہیں۔یہ فیصلہ ہمارے نزدیک غلط ہے لیکن اس میں کیا شک ہے کہ صوبہ کی اعلیٰ عدالت کے ایک رکن نے یہ فیصلہ کیا ہے۔اور جب تک یہ فیصلہ نہ بدلے اس وقت تک یہی فیصلہ ملک کا قانون ہے۔مسلم آؤٹ لک نے اس فیصلہ پر جرح کی اور اس کے ایڈیٹر اور مالک کو ہتک عدالت کے جرم میں قید خانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔اب ہمارا یہ کام ہے ہے کہ (1) ان لوگوں کو قید سے رہا کرائیں کہ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت کی حفاظت میں قید کیا گیا۔(۲) فیصلے کو جلد سے جلد بدلوائیں۔(۳) ان حالات کی اصلاح کرائیں جن کی وجہ سے اس قسم کی ہتک آمیز تحریر ات لکھی گئیں اور ان کے لکھنے والے بری کئے گئے۔آپ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ حکومت ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہم اکیلے ہی ہندوستان کے باشندے ہیں۔حکومت انگریزوں کے اختیار میں ہے اور ہندوستان کی آبادی کا اکثر حصہ ہندو ہے۔پس ہم خود کچھ کر نہیں سکتے اور گورنمنٹ کو بھی دخل دیتے وقت اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کے فیصلے کا آبادی کے دوسرے حصہ اور زیادہ حصہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔پس بغیر اس کے کہ ہم حُسن تدبیر سے کام لیں ہمارے لئے کامیابی نا ممکن ہے۔اور اگر ہم جوش میں اپنے آپ کو ہلاک بھی کر دیں تو اس سے اسلام کو کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے کا دروازہ اور بھی کھل جائے گا۔پس ہمیں چاہئے کہ اپنی عقل کو قائم رکھتے ہوئے ان تدابیر کو اختیار کریں جو موجوده مشکلات کو حل کر دیں اور مسلمانوں کی موجودہ ذلت کو عزت سے بدل دیں۔آپ سب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ گورنر صاحب پنجاب نے بڑے زور دار الفاظ میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کے خلاف آواز بلند کی تھی اور اس پر تعجب اور حیرت کا اظہار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور یا تو اس فیصلے کو دلوائیں گے یا پھر قانون کی اصلاح کرائیں گے تاکہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ