انوارالعلوم (جلد 9) — Page 555
۵۵۵ کے علاوہ روپیہ ادا کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو نوگ روز بروز دولتمند ہو رہے ہیں اور مسلمان روز بروز گر رہے ہیں۔وہ طاقتور ہو رہے ہیں اور یہ کمزور۔پنجاب جہاں ایک ہندو کے مقابلہ میں دو مسلمان ہیں۔وہاں بھی ہندوؤں کے دس روپیہ کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس بمشکل ایک ہے۔اور ملازمتوں میں بھی دو دو تین تین ہندووں کے مقابلہ میں ایک ایک مسلمان بمشكل ملتا ہے۔پس اس حالت کو بدلنا مسلمانوں کا اہم فرض ہے۔ہر اک جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے جو چاہتا ہے کہ آپ کو گالیاں نہ دی جائیں۔اس کا فرض ہے کہ بجائے وحشت دکھا کر اسلام کو بدنام کرنے کے صحابہ کرام ؓکی طرح غیرت دکھائے۔اور دائمی قربانی سے اسلام کو طاقت دے۔ہر اک مسلمان کو چاہئے کہ جس طرح ہندو مسلمانوں سے چُھوت کرتے ہیں وہ بھی ہندووں سے چُھوت کرے اور سب کھانے کی چیزیں مسلمانوں ہی کے ہاں سے خریدے۔اور روسری اشیاء کے لئے بھی ممکن حد تک مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے کے لئے کوشش کرے اور ان کی امداد کا خیال رکھے۔بائیکاٹ کو میں ذاتی طور پر ناپسند کرتا ہوں۔لیکن یہ بائیکاٹ نہیں بلکہ تر جیح ہے اور ترجیح پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت ہر اک وہ شخص جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتا ہے۔اب غفلت کی نیند کو ترک کر کے عمل کے میدان میں آ جائے گا۔اور ہندوؤں کی تمدنی غلامی سے آزاد ہونے اور دوسروں کو آزاد کرانے کی پوری کوشش کرے گا۔تاکہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی غیرت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور وہ آپ کی عزت کے قیام کے لئے مستقل قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر مسلمان اس کام پر آمادہ ہو جائیں گے تو یقینا ً وہ ہندو جو دل سے بُرے نہیں ہیں لیکن بعض شورید و هر لوگوں کے شور سے ڈرے ہوئے ہیں اس خطرہ کو محسوس کریں گے جو تمدنی طور پر ان کے سامنے پیش ہے اور وہ خود ہی ان لوگوں کو باز رکھیں گے۔اور حکومت کو بھی یہ احساس ہو گا کہ مسلمان بھی سنجیدگی سے کسی کام کے کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور محض وقتی جوش کا شکار نہیں ہوتے اور اس کے افسروں کے دلوں میں بھی مسلمانوں کا احترام پیدا ہو گا اور وہ خیال کریں گے کہ یہ ایک عقلمند قوم ہے اور اپنے جوشوں کو دبا کر اور امن کے قیام کو اپنا اولین مقصد قرار دے کر اپنے مذہبی فوائد کی نگہداشت کرتی ہے۔اے بھائیو! میں درد مند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑ پڑتا ہے۔جو لڑ پڑتا ہے وہ بُزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے۔اور وہ ہے جو ایک مستقل ار ادہ کر لیتا ہے