انوارالعلوم (جلد 9) — Page 541
۵۴۱ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ ونصلی علىرسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھو الناصر اسلام کی آواز (رقم فرمود ہ مورخہ 5 مئی ۱۹۲۷ء) آج اسلام کی جو حالت ہے وہ مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ایک طرف ہندوستان کو مسیحیت کھاتی چلی جاتی ہے تو دوسری طرف ہندو مت۔حکومت پہلے ہی مسلمانوں کے ہاتھوں سے جا چکی ہے مگر اب وہ غلامی کے بھی ناقابل سمجھے گئے ہیں۔ارتداد یا اخراج دو صورتیں ہندوصاحبان کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے پیش کی گئی ہیں اور علی الاعلان کہا جاتا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سے ایک نہ ایک ان کو قبول کرنی ہو گی یا مرتد ہو کر توحید کی یا تعلیم کو چھوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات باکمال سے تعلق محبت کو توڑ کر ہزاروں بتوں کا بندہ بننا ہو گا اور نامعلوم الاسم رشیوں کے دامن سے وابستگی کرنی ہوگی یا اس ملک سے جس میں وہ ہزاروں سال سے آباد ہیں (اکثر مسلمان ہندوستان کے قدیم باشندوں میں سے ہیں ہمیشہ کے لئے نکل جانا ہو گا اور ہندوستان کو ہندو مذہب کے پیروؤں کے لئے خالی کر دینا ہو گا۔کیا مسلمان ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا وہ ارتداد اختیار کر سکتے ہیں یا کیا وہ سات کروڑ کی مسلمان آبادی کو کسی اور جگہ جا کربساسکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا انہوں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ان مصائب سے بچنے کے لئے انہیں کیا کچھ کرنا چاہئے۔ریزولوشن خواہ کس قدر اخلاص سے پاس کئے جائیں ان سے کچھ نہیں بن سکتا۔دھمکیاں خواہ کس قدر چھوٹی سے دی جائیں ان سے کچھ نہیں بن سکتا۔گالیاں خواہ کس قدر غصے سے دی جائیں ان سے کچھ بن نہیں سکتا۔یہ واقعہ کہ ہر ایک ہندو مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے تیار ہے