انوارالعلوم (جلد 9) — Page 523
۵۲۳ فسادات لاہور پر تبصرہ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ ونصلی علىرسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھو الناصر برادران ! السلام علیکم پچھلے منگل ، بدھ اور جمعرات کو لاہور میں جو فساد ہوا ہے اس کے واقعات سے تو آپ لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہیں، اس لئے ان کے متعلق مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ہاں میں اس امر پر افسوس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بے گناہ مسلمانوں کو جو نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے ، بعض ہندوؤں اور سکھوں نے ہندوؤں کے اشتعال دلانے پر بے دردی سے قتل کر دیا اور پھر ان کے جنازہ کے وقت بِلا کسی انگیخت کے سنگ باری کر کے جلتی ہوئی آگ پر اور تیل ڈالا - ہاں میں اس موقع پر ان لوگوں کی موت پر بھی افسوس کرتا ہوں جو سکھوں یا ہندوؤں میں سے اس جوش و فساد کے موقع پر مارے گئے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے اکثر اسی طرح بے گناہ تھے جس طرح کہ مسلمان کیونکہ ان کا جُرم ثابت نہیں کیا گیا۔جس طرح سوامی شردھانند کے مارے جانے پر قاضی محبوب علی صاحب کا مارا جانا جائز نہ تھا اسی طرح مسلمان مقتولین کے بدلہ میں ان لوگوں کا مارا جانا درست نہ تھا اور گو البادئ أظلم کے ماتحت ہندو اور سکھ صاحبان يقينا ظالم ہیں جنہوں نے ابتداء کی اور بے د ردانہ ابتداء کی اور پھر اپنے ظلم پر اصرار کیا اور اس کو جاری رکھا۔لیکن باوجود اس کے ہندوؤں اور سکھوں کے مقتولین پر بھی ہمیں اخلا قا ً اور شرعاً اظہار افسوس کرنا چاہئے اور چاہئے کہ ایسے مواقع پر آئندہ اس قسم کا بدلہ نہ لیا جائے۔اسلام کا فخر اس کی مظلومیت میں ہے اور ہمیں رسول کریم ﷺفدا نفس و جن کے اسوہ حسنہ پر چل کر بتا دینا چاہئے کہ