انوارالعلوم (جلد 9) — Page 508
۵۰۸ تحقیقاتی کمیشن بٹھایا گیا۔اس نے کئی ہزار مجانین کے جسم کا معائنہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ۸۰ فیصدی مجانین میں جنون کا سبب دانت اور مسوڑھوں کی پیپ تھی۔مسوڑھوں کی خرابی کا زہریلا اثر گلے کی غدود کو پہنچتا ہے اور وہاں سے عروق جاذبہ کے رستے دماغ میں جا کر جنون پیدا کر دیتا ہے۔میں جب کانفرنس مذاہب کے موقع پر لنڈن گیا تو ایک ماہر فن دانت کے ڈاکٹر سے دانتوں کا معائنہ کرایا۔اس نے کہادانتوں کو باقاعدہ برش کیا کرو۔پھر برش کرنے کا طریق بھی بتایا اور اس بات پر زور دیا کہ برش کی حرکت اوپر نیچے ہو۔لیکن صرف دانتوں کی سطح کو صاف نہ کیا جائے بلکہ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان جو جگہ ہے اس کو اچھی طرح صاف کیا جائے۔رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی ارشاد ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف حرکت کی جائے۔۱۶؎ کیونکہ مسوڑھوں کا آخری حصہ نرم ہوتا ہے۔اور اس کے پیچھے جرمز چھپے رہتے ہیں۔چونکہ یہ اصولی مضمون ہے اس لئے یہ چار پانچ مثالیں کافی ہیں ورنہ قرآن کی ساری کی ساری تعلیم سائنس پر مبنی ہے جس کا آج سے تیرہ سو سال قبل کسی کو وہم بھی نہ تھا۔سائنس کی ترقی صرف ۲ سَو سال سے ہے اور نئی تحقیقاتیں اسلامی تعلیم کی حکمت ظاہر کر رہی ہیں۔پس معلوم ہوا کہ مذہب سائنس کا مؤ یّد ہے۔کیا مذہب سے وہم پیدا ہوتا ہے اعتراض کیا جاتا ہے کہ مذہب کے بعض نظریات کی بناء چو نکہ مادیات پر نہیں ہوتی اِس لئے انسان بر لغو بات خواہ وہ عقل کے خلاف ہی ہو مان لیتا ہے جس سے اس کی قوت استدلال کمزور ہو جاتی ہے اور وہم بڑھ جاتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب سے وہم نہیں پیدا ہوتا کیونکہ مذہب کی بناء یقین پر ہے۔اگر وہم ہو تو پھراتنا وہم سائنس سے بھی پیدا ہوا ہے۔مثلاً ملائکہ کا وجود، بعث بعد الموت، اللہ تعالیٰ کا وجود ان سب کا ثبوت مادیات سے نہیں ملتا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب لغو باتیں منواتا ہے کیونکہ اگر چہ وہ نظریات جو عقل سے بالا ہوں، ان کو منواتا ہے مگر دلیل ہے۔نذہب کی سچائی کے لئے ضروری ہے کہ جو امور مادیات سے بالا ہوں ان کے لئے دلیل دے۔پس اسلام نے اللہ تعالیٰ کی ہستی، ملائکہ کاوجود وغیرہ کے لئے دلائل دیتے ہیں لہٰذا وہم پیدا نہیں ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے وہم کا ازالہ کیا۔حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاجبزادے ابراہیم جب فوت ہوئے تو اُس دن اتفاقاً