انوارالعلوم (جلد 9) — Page 501
۵۰۱ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ بعض دفعہ خدا تعالی کے فعل اور کبھی خدا تعالی کے قول کے سمجھنے میں غلطی کر جاتا ہے جس سے سائنس اور مذہب میں اختلاف نظر آتا ہے ورنہ اگر واقعہ میں مذہب خدا کی طرف سے ہے اور سائنس اس کا فعل ہے تو پھرٹکر اؤ نہیں ہو گا۔سائنس تو مذہب کی مؤید ہونی چاہئے نہ کہ خلاف۔کیونکہ فعل ہمیشہ قول کا مؤید ہوا کرتا ہے نہ کہ مخالف۔پس سائنس کی کوئی تحقیق مذہب کے خلاف نہیں ہو گی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔خدا کے کلام کی آپ کے عمل سے تائید ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ نے دریافت کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے۔تو انہوں نے جواب دیا۔کان خلقه القران - ۱؎ آپ کے اخلاق وہی تھے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔پس سچائی میں قول اور فعل ٹکراتے ہیں۔اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو سائنس ضرور اُس کی مؤید ہو گی۔اسی طرح خدا تعالی کے کلام پر غور کرنے سے سائنس کی تائید ہوگی نہ کہ مخالفت۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ولا مبدل لکلمت اللہ۔۲؎ یعنی خدا کے کلام میں جھوٹ نہیں ہو سکتا اس میں جتنا غور کرو گے سچائی ہی سچائی نکلے گی۔پھر فرماتا ہے۔ولن تجد لسنة الله تبدیلا۔۳؎ یعنی خدا کے عمل میں بھی غلطی نہیں ہے۔گویا خدا کے کلام (مذہب) اور اس کے فعل (سائنس) پر جتنا بھی غور کرو گے کبھی اس کی بات کو اس کے عمل کے خلاف نہ پاؤ گے۔قرآن اور سائنس پس قرآن تو سائنس کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے۔چہ جائیکہ اس سے نفرت دلائے۔قرآن نے یہ نہیں کہا کہ سائنس نہ پڑھنا، کافر ہو جاؤ گے کیونکہ اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ لوگ علم سیکھ جائیں گے تو میرا جادو ٹوٹ جائے گا۔قرآن نے لوگوں کو سائنس کی تعلیم سے روکا نہیں بلکہ فرماتا ہے۔قل انظروا ماذا في السموت والا رض۴؎ غور کرو۔زمین اور آسمان کی پیدائش میں۔آسمان سے مراد سماوی (علوی) علوم اور زمین سے ارضی یعنی جی آلوجی (GEOLOGY)، بائی آلوجی (BIOLOGY)، آر کی آلوجی (ARCHEOLOGY)طبيعیات وغیرہ علوم مراد ہیں۔اگر خدا کے نزدیک ان علوم کے پڑھنے کا نتیجہ مذہب سے نفرت ہو تا تو قرآن کہتا ان علوم کو کبھی نہ پڑھنا۔مگر اس کے برخلاف وہ تو کہتا ہے، ضرور غور کرو، ان علوم کو پڑھو اور اچھی طرح چھان بین کرو کیونکہ اسے معلوم ہے علوم میں جتنی ترقی ہو گی اس کی تصدیق ہوگی۔