انوارالعلوم (جلد 9) — Page 481
وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون ۱۳؎ مومن کو سرحد پر گھوڑے باندھنے چاہئیں یعنی سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ہندوستان کی ادنی ٰ اقوام ہماری سرحدہیں ہمیں چاہئے اپنی سرحد پر گھوڑے باندھیں اور ان کی حفاظت کریں۔اگر دشمن نے اس سرحد پر قبضہ پالیا اور ادنی ٰ اقوام کو اپنے ساتھ ملا لیا تو پھر جیسے دشمن سرحد سے گذر کر وسط ملک میں پہنچ جاتا ہے اسی طرح ہندو اچھوت اقوام سے گزر کر خود مسلمان قوموں پر حملہ کر دیں گے۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم ہوشیاری کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کریں اور ادنی ٰ اقوام کو جو ہماری سرحد ہیں ان لوگوں کی دستبرد سے بچائیں۔ملکانوں کو بچانا اور بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔اسلام کی حفاظت اور اشاعت ہمارے لئے فرض ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ذمہ داری کو جو بطور فرض ان کے سر پر ہے پوری کریں اور خود بھی مسلمان بن کر رہیں اور کمزور مسلمانوں اور ادنی ٰ اقوام کے مسلمانوں اور دُور اُفتادہ مسلمانوں کی بھی حفاظت کریں۔اگر مسلمان ہوشیار نہ ہوئے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کی انہوں نے کوشش نہ کی تو کم از کم میں خدا کے سامنے یہ کہہ سکوں گاکہ میں نے بریڈلا ہال میں ۲۔مارچ ۱۹۲۷ء کو کہہ دیا تھا اور لوگوں کو ان کا فرض یاد دلا دیا تھا لیکن اے خدا! تیرے بندے غفلت میں رہے اور انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔مسلمانوں کا آئندہ طریق کار اب میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو ان کے لئے آئندہ کے واسطے وہ طریق عمل بتاؤں جس پر انہیں چلنا چاہئے اور جن کی انہیں ازحد ضرورت ہے۔سب سے پہلی بات جو میں انہیں کہتا ہوں یہ ہے کہ وہ پہلے خود پکے مسلمان بنیں۔شاید مجھے تعلیم یافتہ لوگ پاگل کہیں کہ ہر ایک عیب کا علاج اسلام پر عمل بتاتا ہے مگر وہ خواہ کچھ کہیں حق یہی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا اصل ذریعہ یہی ہے۔مسلمانوں کا آئندہ طریق کار سب سے پہلی بات جو میں نے کہی کہ پکے مسلمان بن جاؤ اس کے ساتھ میں دوسری بات جو بتاتا ہوں اور وہ بھی ازحد ضروری ہے و ہ ہے تدبیر۔تدبیر سے کام مسلمانوں کا خاص کام ہے اور مسلمان جانتا ہے کہ ہمارا مذہب تدبیر سکھاتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ خود تو کرو کچھ نہ اور امید رکھو کہ سب کچھ ہو جائے گا۔مسلمانوں کا مذہب اس بات کا حامی نہیں بلکہ اس بات کا حامی ہے کہ ہر موقع پر تدبیر سے کام لینا چاہئے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تدبیر کرنی چاہئے۔چنانچہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اپنا اونٹ باہر چھوڑ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا