انوارالعلوم (جلد 9) — Page 456
۴۵۶ ہندو جو کچھ کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں خواہ اچھی بات ہی ہو پھر بھی اسے بُراہی کہتے اور بُرا ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے کی بات کو اچھا کہنے میں ہماری ہتک ہے۔پس کو دوسرے مذہب کا آدمی اچھی بات ہی کر رہا ہو لیکن رواداری کے نہ ہونے کے سبب اسے بُرا ہی سمجھاجاتا ہے۔دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر شخص جو کچھ کہتا ہے بدنیتی سے کہتا ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کوئی بات کہے اور دوسرے کو وہ ناپسند ہو لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ چونکہ اسے ناپسند ہے اس لئے کہنے والے نے بد نیتی سے کہی ہے۔مگر یہاں نیتوں پر بھی حملہ کیا جاتا ہے اور جب کسی کی نیت پر حملہ کیا جاتا ہے تو لازماً یہ نتیجہ ہے کہ دوسرے کو غصہ آئے اور اس غصہ سے وہ خیال کرنے لگ جائے کہ یہ مجھے اس لئے ذلیل کرنا چاہتا ہے کہ خود ترقی کرے۔در حقیقت یہ نقص اس لئے پیدا ہوا ہے کہ قوم پرستی کی وجہ سے ہمارے ملک میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ ترقی بغیر دوسروں کو گرانے کے نہیں ہو سکتی۔اسلامی سیاسی رواداری اس موقع پر یہ بھی بتادینا چاہتاہوں کہ اسلام کی تعلیم مذکورہ بالا امور کے متعلق کیا ہے۔سیاسی رواداری ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق اتنی سی بات بیان کر دینا ہی کافی ہو گا کہ اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے ماتحت لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر قائم رہے اور یہ بات کہ غیرمذاہب کے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا گیا ہو خاص جکومت یا کسی خاص اسلامی ملک یا کسی خاص زمانہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر اسلامی حکومت میں ایسا کیا جاتا تھا اور ہر اسلامی ملک میں اس رواداری کو استعمال میں لایا جاتا رہا۔جہاں جہاں اسلامی حکومت ہوتی ہے وہاں لائی اور قابل آدمیوں کو اعلی ٰعہدوں پر مقرر کیا گیا اور یہ نہ دیکھا گیا کہ فلاں آدمی اپنی قوم کا فرد ہے یا غیر قوم کا۔چنانچہ انجینئر، اطبّاء، کمانڈر ، حتی کہ وزارتتک کے عہدے ان لوگوں کو دیئے گئے جو یہودی تھے یا عیسائی یا کسی اور قوم کے فرد۔یہی حال ہندوستان میں بھی رہا اور بادشاہوں نے ہندوؤں کو بھی بڑے بڑے عہدوں پر مقرر کیا بلکہ بعض حالتوں میں غیرمذاہب کے لوگ مسلمانوں سے بھی ترقی کر جاتے تھے کیونکہ جو بڑے بڑے مسلمان بادشاہ گزرے ہیں وہ جانتے تھے کہ انہیں مذہبی طور پر بھی حکم ہے کہ کسی کا حق نہ ماریں خواه وہ شخص اپنی قوم کا ہو یا غیر قوم کا۔چونکہ مسلمانوں کو مذہبی طور پر اس قسم کی رواداری اختیار کرنے کا حکم ہے اس لئے وہ اس سے احتراز میں کرتے تھے۔