انوارالعلوم (جلد 9) — Page 404
۴۰۴ لیكن قادیان کی رہائش نہ چھوڑی۔دوسرے دوست چوہدری نصر اللہ خان صاحب تھے جو گو اتنے پرانے احمدی نہ تھے لیکن سلسلے کی خدمات میں بہت آگے نکل گئے تھے۔میں نے جب ایک دفعہ اعلان کیا کہ سلسلہ کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کے لئے اپنے اوقات کو وقف کریں تو اِس پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے چوہدری نصر اللہ خان صاحب ہی تھے۔جو اَدب اور احترام ان میں تھا وہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔کامیاب وکیل تھے، صاحب جائیداد تھے، زمین کافی تھی اس لئے یہاں آزادی سے گزارہ کرتے تھے۔مگر ان کی فرمانبرداری کو دیکھا ہے کہ گزارہ لینے والوں میں بھی وہ فرمانبرداری نہیں نظر آتی۔ایک دفعہ ان کے بیٹے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے انہیں جلسہ کے موقع پر کسی دوست کے ہاں اپنے ساتھ ٹھہرنے کے لئے کہاتو چوہدری صاحب نے کہامیں تو یہیں عام لوگوں میں ٹھہروں گا دَال روٹی کھاؤں گا زمین پر سوؤں گا۔پہلے لوگوں نے پلاؤ کھا کھا کر ایمان خراب کر لیا۔میں اپنا ایمان خراب نہیں کرنا چاہتا۔چنانچہ یہ عوام میں ہی ٹھہرے۔ان میں بہت ہی اخلاص تھا۔ایک دفعہ کوئی معاملہ میرے پاس لائے۔اور کہا۔یہ بات یوں ہونی چاہئے۔میں نے کہا یوں نہیں ہونی چاہئے۔دوسرے دوستوں نے اس پر رائے زنی کر کے کہا کہ اسے پھر دوبارہ پیش کرو تو کہا میں تو یہاں ایمان لینے آیا ہوں ایمان ضائع کرنے نہیں آیا۔جب ایک دفعہ پیش کرنے سے حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ بات یوں نہیں ہونی چاہئے تو پھر میرا تمہارا کیا حق ہے اس کے خلاف بولنے کے باوجود کامیاب وکیل اور صاحب جائیداد ہونے کے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگئے اور سلسلہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔تو ایک پرانا خادم سلسلہ ہم سے اُٹھ گیا۔آئندہ نسلوں کی یاد کے لئے اور انہیں بتانے کے لئے کہ ہم میں ایسے مخلص موجود ہیں۔چند کلمات کہے ہیں تا دوسروں کو بھی تحریک ہو اور کام کر کے دکھائیں۔دینی خدمات میں ان کی طرح حصہ لیں۔سوامی شردھانند کا قتل اب میں ایک تازه واقعہ کی طرف اشارہ کرناچاہتا ہوں۔جو دہلی میں ہوا ہے اور وہ شردھانند صاحب کا قتل ہے۔شردھانند صاحب آریوں کے لیڈر تھے اور پہلے منشی رام کے نام سے مشہور نے کامیاب پلیڈر تھے۔ان کی اس حد تک تعریف کرنی چاہنے کے باوجود اس کے کہ ان کامذہب جھوٹا تھا پھر بھی اس کی