انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 375

۳۷۵ ضروریات بھی مرد ہی طرح ہیں۔خدا کا طبعی قانون دونوں پر یکساں اثر کر رہا ہے اور یہ قانون صحت کی درستی اور جسم کی مضبوطی کے لئے اس امر کا متقضی ہے کہ کھلی ہوا میں انسان پھرے اور روزانہ کافی مقدار میں نقل وحرکت کرے اور محدود دائرہ میں بند ہونے کا خیال اس کے أعصاب میں کمزوری نہ پیدا کرے جس خدا نے عورت کو ان قوتوں اور ان تقاضوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس خدا نے اس کا ایک ہی علاج مقرر فرمایا ہے اس کا کلام عورت کو اس ایک ہی علاج سے محروم نہیں کر سکتا سزا ایک آدمی کو دی جاسکتی ہے دو کو دی جاسکتی ہے لیکن قوم کی قوم کو نسلاً بعد نسل قيد میں نہیں رکھا جاسکتا۔آخر فطرت بغاوت کرے گی اور قید خانوں کی دیواروں کو توڑ کر رکھ دے گی۔شریعت کا مقرر کردہ پردہ فطرت کے خلاف نہیں ہے اس کو جو لوگ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ فطرت کے تقاضے کو نہیں بلکہ ہوا ؤ ہوس کے تقاضے اور عیش پرستی کے جذبات کو پورا کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں فطرت کے تقاضے قانون قدرت کے اندر اپنے نشان رکھتے ہیں اور ان کا توڑنا خدا کی کل کائنات کو مخالفت پر کھڑا کر دیتا ہے لیکن عورت کا بے محابا ہر مرد کے سامنے ہو اس کے ساتھ بے تکلف ہونا اور علیحدہ ہو جانا کسی ایک قانون قدرت کو بھی مخالفت پر نہیں آمادہ کرتا بلکہ اُلٹا انسان کو اس کے اعلی ٰمرتبہ سے گرا کر حیوانی تقاضوں اور جذبات کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے ہیں اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سے زیادہ پردہ کرانا یا اس کی خواہش کرنی خدا کے حکم کی اتباع نہیں ہے بلکہ اس کا مقابلہ ہے اور صرف ایک عارضی اور زیادہ اہم ضرورت کے لئے اس کو جاری کیا جاسکتا ہے جس طرح کہ ایک طبیب ایک بیمار کو چلنے پھرنے سے جو فطری تقاضے ہیں روک دیتاہے۔جب کہ شریعت نے عورت کو باہر نکلنے کی اجازت دی ہے اور صرف منہ کا ایک حصہ اور بدن کو ڈھا نپنے کا حکم دیا ہے اور ہاتھ اور پاؤں اور دوسری میں جو ایسے موقع پر ظاہر ہوہی جاتی ہیں انکو ظاہر کر دینے کی اجازت دی ہے تو یہ ضروری بات ہے کہ ایک عورت جو گھر سے باہر اس حالت میں نکلے گی اس کی نظر مردوں کے جسم کے بہت سے حصوں پر اسی طرح پڑے گی جس طرح کہ عورت کے بعض حصوں پر مرد کی پڑتی ہے۔غض بھر کے علم نے بتادیا ہے کہ اصل چیز جوپردہ کی جان ہے دونوں کی نظروں کو ملنے سے بچانا ہے اور جسم کا وہ حصہ جس پر نگاہ ڈالتے ہوئے آنکھیں ملنے سے رہ ہی نہیں سکتیں یا اس امر کی احتیاط نہایت مشکل ہو جاتی ہے وہ چہرہ ہے۔بقیہ جسم کو جب کہ یہ مناسب کپڑوں سے ڈھکارا ہو نہ چھپانے کی ضرورت ہے نہ اسے چھپایا جا سکتاہے جب