انوارالعلوم (جلد 9) — Page 374
۳۷۴ نمائش کو دیکھتی رہی ہے اور اس کے دل سے ان کا خوف دور ہو جاتا ہے اور وہ ان کو ایک کھلونا سمجھنے لگتی ہے اپنے بچوں کو اس ذمہ داری کے اٹھانے کے لئے تیار کر سکتی ہے جو اپنے مذہب اور اپنے ملک کی طرف سے ان پر عائد ہونے والی ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جنگ سے قریب ترین نظاره مصنوعی جنگ کا ہوتا ہے جس میں دیکھنے والا بسا اوقات یہ خیال کرتا ہے کہ اب ایک شخص دوسرے کے وار کے آگے زخمی ہو کر گر جائے گا اور ہتھیار کا حقیقی رُعب اس سے قائم ہوتا ہے۔غرض جنگ کے کرتب کروانے یا کرنے ناچ کروانا کرنا نہیں ہے نہ ان کا عورتوں کو دکھانا ناچ دکھانا ہے بلکہ جنگ کے کرتبوں کی مشق کرانامذہبی فرض ہے اور ملک کا حق ہے اور زندگی کا نشان ہے اور عورتوں کو ان فنون کے دیکھنے کا موقع دینا ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی طرف سے بے توجہی غداری ہے۔بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو ان کو فنون جنگ سکھانے چاہئیں جیسا کہ عرب لوگ سکھاتے تھے تاکہ وقت پر وہ اپنی عصمت اور عزت کی حفاظت کر سکیں اور مصیبت کی سماعت میں اپنے مردوں اور اپنے بھائیوں کا ہاتھ بٹا سکیں۔اسلام کی تاریخ ان مثالوں سے پُر ہے کہ عورتوں نے جنگ میں خطرناک اوقات میں جب اور لشکر میسر نہ آسکتے تھے مردوں کا ہاتھ بٹایا اور ان کے ساتھ فتح میں شریک ہوئیں۔ان کے حالات ہماری رگوں میں فخر کی لہر پیدا کر دیتے ہیں اور ان کے کارنامے ہماری ہمتوں کو بلند وبالا کر دیتے ہیں اور مصنّف ہفوات میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ نچنیاں تھیں اور قوم اور ملک کے لئے ننگ۔وہ غیر مردوں کا چہرہ دیکھنے والی تھیں اور حیا اور شرم سے عاری۔مگر میں کہتا ہوں یہ ننگ ہمارے لئے سترکا موجب ہے اور یہ عار ہمارے لئے عزت کا باعث ہے۔تیری عزت اور تیری حیا تیرے لئے مبارک ہو کہ وہ ہمارے لئے موجب ننگ وعار ہے۔مصنف ہفوات کا یہ اعتراض کہ کیا حضرت عائشہ نے غیر محرم پر نظر ڈالی اور رسول کریم ﷺنے نظر ڈلوائی ایسا ہی بے وقوفی کا سوال ہے جیسا کہ پہلا۔غیر محرم پر نظر نہ ڈالنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی صورت اور کی غرض سے غیر محرم کے کسی حصہ پر نظر ڈالنی منع ہے۔اگر شریعت اسلامیہ کا یہ مسئلہ ہوتا تو عورتوں کو چار دیواری سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی اور مکان بھی بند دریچوں کے بنائے جاتے جس قسم کا کہ ظالم بادشاہ قید خانے تیار کراتے ہیں۔مصنّف ہفوات کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ عورت بھی اسی قسم کی انسان ہے جس قسم کا کہ مرد ہے اور اس کی طبعی