انوارالعلوم (جلد 9) — Page 356
۳۵۶ حق الیقین پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سمجھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اور یہ اسی طرح کورے کے کورے اس سے نکل جاتے ہیں گویا کہ انہوں نے اسے پڑھا ہی نہیں۔مصنف ہفوات نے شرک کی تعریف میں ذی روح کی تصویر کو شامل کیا ہے حالانکہ قرآن کریم میں جو حضر ت سلیمان علیہ السلام کی نسبت آیا ہے کہ وہ تماثیل بنواتے تھے اس لفظ تماثیل کے معنوں میں خصوصیت کے ساتھ ذی روح چیزوں کے مجسمے داخل ہیں حتیٰ کہ بعض لوگوں کے نزدیک تو تمثال کہتے ہی ذی روح چیز کے مجسمے کو ہیں۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت تمثال بنانی جائز ہوتی ہو گی شرک ان گناہوں میں سے نہیں ہے جو وقتاً فوقتاً بدلتا رہے اللہ تعالیٰٰ کی توحید اور تفرید کا ظہور اسی طرح ابتداء میں ضروری تھا جس قدر کہ آج کل ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر قسم کی تمثال بنانی منع نہیں ہے بلکہ ایسی ہی صورتیں ناجائز ہیں جن کے نتیجہ میں شرک پیدا ہو جایا کرتا ہے اور اس کا احتمال ہوتا ہے یا ایسی صورتوں میں تصاویر کا استعمال منع ہے جہاں شرک کے علاوہ کچھ اور اخلاقی امور مدنظر ہوں ورنہ ان کے سوداگر کسی اور غرض کے پورا کرنے کے لئے تصویر یا تمثال ہو تو وہ منع نہیں ہے جیسے بچوں کے کھیلنے کے لئے کھلونے بنا دئیے جاتے ہیں یا گڑیاں یا اور اسی قسم کی چیزیں ان چیزوں کا تو وجود ہی ان کی حقارت کے لئے ہوتا ہے ان سے شرک کا احتمال کب ہو سکتا ہے؟ یا آج تک دنیا میں کبھی ان چیزوں سے شرک ہوا ہے؟ ادنیٰ سے ادنیٰ اقوام میں بھی کبھی گڑیوں اور کھلونوں کے سبب سے شرک پیدا نہیں ہوا۔ہاں بزرگوں اور صلحاء اور قومی لیڈروں کی تصاویر یا ان کے مجسموں یا اخلاق یا مخفی طاقتوں کی خیالی تصاویر یا مجسموں سے بے ک شرک پیدا ہوتا رہا ہے اورہوتا ہے پس ان چیزوں کی تصویریں بنانی یا ان کے مجسمے بنانے یا شرک ہیں یا شرک کے پیدا کرنے کا موجب اور ان سے بچنے اور احتراز رکھنے کا شریعت اسلام حکم دیتی ہے۔اس کے علاوہ شرک کے خیال سے نہیں بلکہ بعض اور مختلف وجوہ کی بناء پر خاص خاص موقعوں پر تصاویر کے استعمال کو ناپسند کیا گیا ہے۔جیسے مثلاً خواہ گھروں میں خواہ مساجد میں اور ایسے موقعوں پر صرف تصویریں ہی نہیں بلکہ ہر ایک چیز جو ایسی زینت کی ہو کہ توجہ میں یکسوئی نہ رہنے دیتی ہو اور عبادت کی سادگی میں خلل انداز ہوتی ہو منع ہے۔کیونکہ گو وہ شرک نہ پیدا کرتی ہو مگر ایک نیک کام میں روک ہوتی ہے جیسے کہ باجہ وغیرہ عبادت کے وقت بجانا درست نہیں ہے۔وہ شرک کا موجب نہیں ہیں لیکن ان سے عبادات کی حقیقت میں فرق پڑتا ہے برخلاف اس کے